ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک نیا سفارتی لائحہ عمل سامنے آیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اب براہِ راست کے بجائے بالواسطہ مذاکرات کا سہارا لیں گے۔ معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ نگار حیدر نقوی کے مطابق، مذاکرات کے پہلے دور میں براہِ راست ملاقاتوں پر ایرانی عوام کی جانب سے شدید ردِعمل اور غصے کے اظہار کے بعد دوسرے دور کو منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب پاکستان کی تجویز پر بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

پاکستان کا کلیدی کردار
ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا جب تک واشنگٹن ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا۔ اس تعطل کو توڑنے کے لیے پاکستان نے ایک درمیانی راستہ تجویز کیا ہے، جس کے تحت اب پاکستان، عمان اور روس جیسے دوست ممالک دونوں طاقتوں کے درمیان پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیں گے۔
اس نئے اسٹریٹجک پلان کے تحت ایران اور امریکہ ان ممالک کے ذریعے اپنے تحفظات اور تجاویز ایک دوسرے تک پہنچائیں گے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب تک ان بالواسطہ رابطوں کے نتیجے میں کچھ حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں ہو جاتے، تب تک براہِ راست ملاقاتیں معطل رہیں گی۔ تاہم، اس دوران دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کے درمیان رابطے برقرار رہیں گے تاکہ اہم معاملات پر پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طریقہ کار سے نہ صرف عوامی دباؤ کو کم کیا جا سکے گا بلکہ پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے ٹھوس نتائج حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
علاقائی امن پر اثرات
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے سفارتی فریم ورک میں پاکستان کا مرکزی کردار ایک بار پھر عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو ثابت کر رہا ہے۔ اگر یہ بالواسطہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی سے جاری سرد مہری کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔