برطانیہ، فرانس اور امریکا میں پرتشدد احتجاج اور سرکاری املاک پر حملوں کے بعد ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور عدالتوں نے سخت سزائیں سنائیں۔

September 25, 2026

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

ایران اور امریکہ بالواسطہ مذاکرات پر متفق: پاکستان کی تجویز پر نیا سفارتی فارمولا طے پا گیا

ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات عوامی دباؤ کے باعث تعطل کا شکار؛ پاکستان کی تجویز پر اب بالواسطہ سفارت کاری کے ذریعے معاملات حل کیے جائیں گے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات عوامی دباؤ کے باعث تعطل کا شکار؛ پاکستان کی تجویز پر اب بالواسطہ سفارت کاری کے ذریعے معاملات حل کیے جائیں گے۔

حیدر نقوی کا انکشاف: ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز۔ پاکستان، عمان اور روس ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ تہران کا مطالبات کی منظوری تک براہِ راست ملاقاتوں سے انکار۔

April 25, 2026

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک نیا سفارتی لائحہ عمل سامنے آیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اب براہِ راست کے بجائے بالواسطہ مذاکرات کا سہارا لیں گے۔ معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ نگار حیدر نقوی کے مطابق، مذاکرات کے پہلے دور میں براہِ راست ملاقاتوں پر ایرانی عوام کی جانب سے شدید ردِعمل اور غصے کے اظہار کے بعد دوسرے دور کو منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب پاکستان کی تجویز پر بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

پاکستان کا کلیدی کردار

ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا جب تک واشنگٹن ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا۔ اس تعطل کو توڑنے کے لیے پاکستان نے ایک درمیانی راستہ تجویز کیا ہے، جس کے تحت اب پاکستان، عمان اور روس جیسے دوست ممالک دونوں طاقتوں کے درمیان پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیں گے۔

اس نئے اسٹریٹجک پلان کے تحت ایران اور امریکہ ان ممالک کے ذریعے اپنے تحفظات اور تجاویز ایک دوسرے تک پہنچائیں گے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب تک ان بالواسطہ رابطوں کے نتیجے میں کچھ حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں ہو جاتے، تب تک براہِ راست ملاقاتیں معطل رہیں گی۔ تاہم، اس دوران دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کے درمیان رابطے برقرار رہیں گے تاکہ اہم معاملات پر پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طریقہ کار سے نہ صرف عوامی دباؤ کو کم کیا جا سکے گا بلکہ پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے ٹھوس نتائج حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

علاقائی امن پر اثرات

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے سفارتی فریم ورک میں پاکستان کا مرکزی کردار ایک بار پھر عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو ثابت کر رہا ہے۔ اگر یہ بالواسطہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی سے جاری سرد مہری کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

برطانیہ، فرانس اور امریکا میں پرتشدد احتجاج اور سرکاری املاک پر حملوں کے بعد ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور عدالتوں نے سخت سزائیں سنائیں۔

September 25, 2026

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *