پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے محور کے طور پر ابھرا ہے جہاں آج سے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے “اسلام آباد عمل” کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ 1970 کی دہائی میں امریکہ اور چین کے درمیان تاریخی روابط کی راہ ہموار کرنے کے بعد، اپریل 2026 میں پاکستان ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر سہولت کار بن کر سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ بندی کو ایک مستقل سفارتی فریم ورک میں ڈھالنے یا وسیع علاقائی جنگ کو روکنے کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس سفارتی پیش رفت کو ‘اسلام آباد عمل’ کے طور پر پیش کیا ہے، جس میں ایران نے اپنی براہِ راست شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
دو ہفتوں پر محیط یہ مذاکراتی عمل بنیادی طور پر ایران کے دس نکاتی امن منصوبے اور امریکی مطالبات کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ فوری طور پر مکمل امن کا قیام ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اس کا اصل مقصد محدود جنگ بندی کو ایک ایسے منظم سیاسی عمل میں تبدیل کرنا ہے جو مستقبل میں کشیدگی کی راہ روک سکے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ امکان ایک جزوی معاہدے یا ایسے فریم ورک کا ہے جس میں جنگ بندی میں توسیع، پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی، بحری سلامتی اور جوہری پروگرام پر محدود مگر عملی اقدامات شامل ہوں۔
اسلام آباد فارمیٹ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ دونوں حریف فریقین پاکستان کی میزبانی میں آمنے سامنے بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں، جو بذاتِ خود تناؤ میں کمی کی ایک بڑی علامت ہے۔ امریکی مؤقف کہ ایرانی تجویز ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کر سکتی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق اب صرف عسکری دباؤ کے بجائے سفارتی راستے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ تاہم، یہ عمل لبنان کی صورتحال کے باعث بدستور خطرے کا شکار ہے، کیونکہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہیں، جو کہ پاکستان کی مفاہمتی کوششوں اور ایران کے اس مطالبے کے برعکس ہے کہ ایک قابلِ اعتبار جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل ہونا چاہیے۔
مذاکرات کی میز پر موجود پیچیدہ نکات میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت بین الاقوامی نگرانی، پابندیوں کی واپسی اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے معاملات سرِ فہرست ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز میں اپنے کردار کو تسلیم کروانا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل علاقائی گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان حکمتِ عملی کا فرق بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ امریکہ سفارتی حل چاہتا ہے جبکہ اسرائیل عسکری دباؤ برقرار رکھنے کا حامی ہے۔ ان تمام تر مشکلات کے باوجود، پاکستان کا ایک مؤثر پل کے طور پر سامنے آنا اس کی عالمی اہمیت کو ثابت کرتا ہے، اور اب تمام نظریں اسلام آباد پر لگی ہیں کہ آیا یہ عمل خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن پاتا ہے یا نہیں۔
دیکھیے: قومی اتحاد ہی بنیاد: اداروں کی ہم آہنگی اور عوامی حمایت سے پاکستان کے عالمی کردار میں اضافہ