آئی ایس پی آر کے مطابق 13 مارچ 2026 کو افغان طالبان نے پاکستان کے عوام کو نقصان پہنچانے کے لیے چند سادہ ساختہ ڈرونز کے ذریعے حملے کی مذموم کوشش کی، جسے سکیورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان ڈرونز کو ‘سافٹ اور ہارڈ کلز’ کے ذریعے فضا میں ہی روک دیا گیا جس کی وجہ سے وہ اپنے کسی بھی ہدف کو نشانہ نہ بنا سکے۔ تاہم ان ڈرونز کا ملبہ گرنے کے باعث کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔
دہشت گردانہ ذہنیت کی مذمت
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا تھا، جو افغان طالبان کی دہشت گردانہ ذہنیت کا عکاس ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ افغان طالبان ایک طرف عالمی ہمدردی کے لیے خود کو مظلوم پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے دہشت گرد پراکسیز اور ڈرونز کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کو ‘کرائے کی دہشت گرد ملیشیا’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ان کے اصل ارادوں سے بخوبی واقف ہیں۔
آپریشن ‘غضب للحق’ اور پختہ عزم
آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیے میں دوٹوک پیغام دیا ہے کہ پاکستان کا ‘آپریشن غضب للحق’ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے بنیادی تحفظات دور نہیں کر دیتے۔ مسلح افواج دہشت گردی کے تمام مظاہر، بشمول حالیہ ڈرون حملوں کے خلاف نبرد آزما رہنے کے لیے پرعزم ہیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پاکستان کے عوام کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کی ایسی کسی بھی اشتعال انگیزی پر پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔