اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک سفاکانہ قدم اٹھاتے ہوئے وہ متنازع قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینا اب لازمی قرار پائے گا۔ اس قانون سازی کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کی جانب سے “ریاستی سرپرستی میں قتل کو قانونی حیثیت دینے” کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست ہدف اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینی ہوں گے۔
فلسطینیوں کے لیے سزائے موت
اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیر کے روز ہونے والی رائے شماری میں اس قانون کو 62 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے حتمی منظوری دی گئی۔ نئے قانون کے تحت اسرائیلی فوجی عدالتی دہشت گردی کے الزامات میں ملوث فلسطینیوں کو موت کی سزا سنانے کی پابند ہوں گی، جس پر 90 سے 180 دنوں کے اندر عملدرآمد لازمی ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر متفقہ فیصلے اور معافی کے امکان کے بغیر دی جانے والی یہ سزائیں منصفانہ ٹرائل کے تمام عالمی تقاضوں کو پامال کرتی ہیں، جس سے عدالتی نظرِ ثانی کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔
ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی زندگیاں داؤ پر
اس قانون کی منظوری کے بعد اسرائیلی جیلوں میں موجود 9,300 سے زائد فلسطینی قیدی، جن میں 350 بچے اور 66 خواتین بھی شامل ہیں، فوری طور پر جان لیوا خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق یہ قانون سازی جوزف اسٹالن کے سوویت یونین اور ہٹلر کے دورِ جرمنی کی یاد دلاتی ہے، جہاں مخصوص گروہوں کو دبانے کے لیے موت کی سزا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ برائے قومی سلامتی، اتمار بن گویر نے اس قانون کی منظوری پر جشن مناتے ہوئے اسے اپنی سیاسی جیت قرار دیا ہے، جو اس کے پیچھے چھپے انتقامی مقاصد کو بے نقاب کرتا ہے۔
انسانی حقوق کے خدشات
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور اقوامِ متحدہ نے اس قانون پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقِ زندگی اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ عالمی برادری نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل میں ساختی جبر کو مزید گہرا کرے گا اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کا باعث بنے گا۔ فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے بھی اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ماورائے عدالت قتل کو قانونی لبادہ پہنانے کی ایک خطرناک کوشش قرار دیا ہے۔