امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

September 25, 2026

حکام نے پی ٹی آئی کو کالعدم تنظیموں کی معاون اور انتشار پسند جماعت قرار دیتے ہوئے ریاست مخالف اقدامات پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

September 25, 2026

پاکستان نے طورخم بارڈر افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھول دیا

پاکستانی حکام نے طورخم بارڈر کو تین ماہ کی طویل بندش کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے
پاکستانی حکام نے طورخم بارڈر کو تین ماہ کی طویل بندش کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے

ننگرہار کے محکمہ اطلاعات کے مطابق طورخم بارڈر افغان مہاجرین کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ سرحد گزشتہ تین ماہ سے کشیدگی کے باعث بند تھی۔ پاک افغان سفارتی تعلقات میں نرمی کی امید

March 31, 2026

طورخم کے مقام پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہ کو افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ننگرہار میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر قریشی بدلون کے مطابق پاکستانی حکام نے افغان مہاجرین کی سہولت اور ان کی واپسی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ طورخم بارڈر گزشتہ جمعرات کو بھی مہاجرین کی واپسی کے لیے مختصر مدت کے لیے کھولا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے دوبارہ بند کر دیا گیا تھا۔ حالیہ پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی کے ایک مثبت اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاک افغان سرحد کا یہ اہم مقام گزشتہ تین ماہ سے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند تھا، جس کی بنیادی وجہ طالبان اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والے سفارتی و سرحدی تنازعات اور سیکیورٹی خدشات تھے۔

سرحد کی بندش کے باعث ہزاروں افغان خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور تجارتی سرگرمیاں بھی معطل تھیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے لیے سرحد کا کھلنا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک اہم قدم ہے، تاہم پائیدار حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مستقل بنیادوں پر مذاکرات اور اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں سرحد کی بار بار بندش جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *