غزہ سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک بے بنیاد اور من گھڑت دعوے پر سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کی جانب سے کی گئی تنقید کو دفاعی اور سیاسی ماہرین نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ پوسٹ نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس میں سنجیدہ تجزیے، ذمہ دارانہ سوچ اور بنیادی معلومات کا فقدان بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔
ماہرین نے دوٹوک انداز میں وضاحت کی ہے کہ غزہ میں کسی بھی پاکستانی فوجی کی تعیناتی کا کوئی وجود نہیں، نہ ہی کسی قسم کے مبینہ “ٹنل کلیئرنس آپریشن” یا پاکستانی فوجی اہلکاروں کے جانی نقصان کی کوئی حقیقت ہے۔ ان کے مطابق ایسے تمام دعوے سراسر جھوٹ، گمراہ کن اور تخیلاتی ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس غزہ میں کسی بھی گروہ کو غیر مسلح کرنے یا عسکری کارروائی کرنے کا کوئی قانونی، سفارتی یا بین الاقوامی مینڈیٹ موجود نہیں۔ اس حوالے سے بارہا سرکاری سطح پر وضاحت کی جا چکی ہے، اس کے باوجود ایسے بیانات کا دہرانا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
ماہرین نے مذہب اور جعلی فتوؤں کو جھوٹی خبروں کے ساتھ جوڑنے کو نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانیے نہ صرف عوامی جذبات کو بھڑکاتے ہیں بلکہ قومی اداروں کے بارے میں غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات بھی پیدا کرتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا صارفین بالخصوص عوامی شخصیات پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی خبر، دعوے یا بیان کو آگے بڑھانے سے قبل اس کی تصدیق کریں۔ ان کے مطابق غیر مصدقہ معلومات پھیلانا صرف لاعلمی نہیں بلکہ قومی مفاد اور اجتماعی شعور کے لیے نقصان دہ عمل ہے، جس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، جس کے استعمال میں ذمہ داری، احتیاط اور حقائق پر مبنی رویہ ناگزیر ہے، خصوصاً ایسے حساس معاملات میں جن کا تعلق بین الاقوامی سیاست، مذہب اور قومی سلامتی سے ہو۔
دیکھیے: ٹرمپ کشمیری مسئلہ بورڈ آف پیس میں شامل کرسکتے ہیں، بھارت میں خدشات