جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق رہنما اور سینئر سیاستدان مولانا گل نصیب خان نے اپنی ہی پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں پرو امریکہ قرار دے دیا ہے۔
سابق مرکزی رہنما کے اس غیر معمولی اور جرات مندانہ بیان نے سیاسی حلقوں خصوصاً مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اندر ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔ دہائیوں تک پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیت کی جانب سے اپنے ہی قائد پر ایسا بڑا دعویٰ سامنے آنا غیر معمولی بات ہے۔
مولانا گل نصیب کا کہنا تھا کہ پارٹی کے نظریاتی بیانیے اور عملی پالیسیوں میں واضح تضاد پیدا ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمن کی موجودہ سیاست اور فیصلے مذہبی بیانیے کے بجائے امریکی مفادات اور پالیسیوں کے گرد گھومتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، جمعیت علمائے اسلام جیسے مذہبی اور امریکہ مخالف بیانیہ رکھنے والے پلیٹ فارم سے اپنے ہی امیر کے خلاف اس نوعیت کا بیان پارٹی کے اندرونی اختلافات اور نظریاتی تقسیم کو واضح کرتا ہے۔
مولانا گل نصیب کے اس بڑے دعوے کے بعد جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی قیادت اور ترجمانوں کی جانب سے تاحال شدید ردعمل اور وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہونے کا امکان ہے، جبکہ مخالف سیاسی جماعتیں اس بیان کو مولانا فضل الرحمن کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔





