کابل میں مبینہ ہلاکتوں کے دعوے پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شہری ہلاکتیں ہمیشہ عالمی سطح پر تشویش کا باعث رہی ہیں اور انسانی جان کی قدر ہر حال میں مقدم ہونی چاہیے، مگر اس معاملے پر مؤقف بھی یکساں ہونا چاہیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے حملوں میں پاکستان میں تقریباً 5 ہزار شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق ان گروہوں کو مبینہ طور پر سراج الدین حقانی، ملا یعقوب اور عبدالحق واسق کی سرپرستی حاصل رہی جبکہ گزشتہ دو برسوں میں بعض تنظیموں میں 60 سے 70 فیصد جنگجو افغان شہری رہے۔
لیفٹیننٹ جنرل سعید نے کابل حملے کے بعد 500 ہلاکتوں کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا صرف طالبان کا دعویٰ خوداحتسابی یا ریاستی مؤقف پر تنقید کیلئے کافی ہے؟
Loss of civilians in military operations has always been a universal concern. Not only International legal forums and human right organisations but humanity on the whole abhors it . The value of life , particularly those of non-combatants must never be discriminated. Policies ,…
— lieutenant General Saeed (@msaeed26198) March 17, 2026
انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان غیر جانبدار یا بین الاقوامی میڈیا کو موقع دیں تاکہ مبینہ متاثرہ مقام کا جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے اپنے بیان میں حملے کے بعد ہونے والے اضافی دھماکوں اور سامنے آنے والی ویڈیوز کی بھی وضاحت طلب کی، اور کہا کہ اگر واقعی 500 افراد جاں بحق ہوئے تو مرکزی سطح پر اجتماعی نماز جنازہ کیوں نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں تو کابل میں کھلے میدان میں 500 تابوت رکھ کر دنیا کو دکھایا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ 500 ہلاکتوں کا دعویٰ محض پروپیگنڈا ہو سکتا ہے۔
دیکھئیے:کابل حملہ: سینکڑوں ہلاکتوں کے افغان دعوے مگر شواہد کہاں ہیں؟ تحقیقات کے مطالبات شدت اختیار کر گئے