کابل کے علاقے شہرِ نو کی کوچہ گل فروشی میں واقع ایک چینی ریسٹورنٹ میں زوردار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق دھماکہ ہوٹل کے اندر پیش آیا، جس کی شدت سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ قریبی دکانوں اور عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ابتدائی طور پر مقامی افراد نے دعویٰ کیا کہ دھماکہ گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا، تاہم سکیورٹی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق واقعہ مشتبہ نوعیت کا ہے اور اسے چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کی ممکنہ کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دھماکہ اسی ریسٹورنٹ کے اندر ہوا جہاں اکثر چینی شہری آتے جاتے تھے، اور یہ علاقہ غیر ملکیوں خصوصاً چینی باشندوں کی رہائش اور سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔

حادثے کے فوراً بعد افغان پولیس، ایمرجنسی سروسز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جنہوں نے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جائے وقوعہ پر دھواں، ملبہ اور تباہی کے مناظر دیکھے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
اگرچہ افغان حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر کسی دہشت گردانہ کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم سکیورٹی ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ غیر ملکی مبصرین اور مقامی ذرائع اس دھماکے کو داعش خراسان کی ممکنہ کارروائی سے جوڑ رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ مہینوں میں افغانستان میں چینی شہریوں اور ان کے مفادات کو بارہا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ عرصے میں افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں نے نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان اور تاجکستان میں بھی چینی مفادات اور شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان واقعات نے خطے میں چین کے منصوبوں، سرمایہ کاری اور سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہرِ نو جیسے حساس اور نسبتاً محفوظ تصور کیے جانے والے علاقے میں اس نوعیت کا واقعہ افغان حکام کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حتمی نتائج آنے تک علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی جبکہ غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دیکھیں: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی پولیس لائن ٹانک آمد، پولیس کو خراج تحسین