کابل میں ہونے والی حالیہ فضائی کاروائی کے حوالے سے طالبان کے نائب ترجمان حماد اللہ فطرت کے دعووں پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ جدید جغرافیائی ڈیٹا اور تاریخی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ جس مقام کو ‘نشے کے علاج کا ہسپتال’ قرار دے کر پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کابل کے مشرقی کنارے پر واقع ایک انتہائی حساس اور قلعہ نما فوجی تنصیب ہے۔
ملٹری زون کا مرکز
دستیاب تصاویر اور سیٹلائٹ ڈیٹا واضح کرتے ہیں کہ نشانہ بننے والا کمپاؤنڈ کسی شہری آبادی یا طبی زون کا حصہ نہیں، بلکہ ایک وسیع ملٹری زون کے بالکل وسط میں واقع ہے جو چاروں اطراف سے دیگر عسکری تنصیبات اور کمپاؤنڈز سے گھرا ہوا ہے۔ یہ حقیقت طالبان کے اس بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکی ہے کہ نشانہ بننے والا مقام ایک ہسپتال تھا۔ عسکری ماہرین کے مطابق طالبان نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ایسے حساس فوجی علاقوں میں چھپا رکھا ہے تاکہ انہیں ‘انسانی ڈھال’ کے طور پر استعمال کیا جا سکے اور کسی بھی کاروائی کی صورت میں مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر عالمی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔
کیمپ فینکس: ایک تزویراتی عسکری اڈہ
دفاعی ریکارڈز اور حقائق کے مطابق یہ مقام ماضی میں ‘کیمپ فینکس’ کے نام سے مشہور رہا ہے، جو امریکی قیادت میں افغان نیشنل آرمی اور پولیس کی تربیت کا مرکزی ‘ہب’ تھا۔ 2003 میں قائم ہونے والا یہ تزویراتی اڈہ 800 سے زائد فوجیوں کی رہائش، جیمنیزیم اور فوجی میس جیسی تمام عسکری سہولیات سے لیس تھا، جسے ستمبر 2014 میں باضابطہ طور پر افغان حکومت کے حوالے کیا گیا تھا۔ دستاویزی ثبوتوں کے مطابق اس مخصوص فوجی زون میں کبھی بھی ‘نشے سے علاج کا ہسپتال’ موجود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک خالصتاً عسکری ڈھانچہ ہے جسے اب دہشت گردوں کے لاجسٹک اور آپریشنل مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
طالبان کا بیانیہ اور عالمی اداروں کی تصدیق
طالبان کی پراپیگنڈا حکمت عملی واضح ہے کہ جب بھی ان کے زیرِ سایہ کام کرنے والے دہشت گرد ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اسے فوری طور پر شہری مقام قرار دے کر حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس اور فروری 2026 کے عالمی تخمینے تصدیق کرتے ہیں کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ سمیت 20 سے زائد دہشت گرد گروہ آزادانہ سرگرم ہیں۔ پاکستان نے دوحہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی اور سرحد پار سے ہونے والے سینکڑوں حملوں کے بعد، یہ ٹارگیٹڈ کارروائی قانونی اور دفاعِ خود کے لیے ناگزیر طور پر کی۔ حقیقت واضح ہے کہ یہ معاملہ شہریوں کا نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کا ہے جو دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہے اور جھوٹے بیانیے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
دیکھیے: راولپنڈی میں افغان ڈرون حملے کی افواہ؛ بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب