خیبر پختونخوا کے بالائی اور سرد علاقوں میں چاول کی کاشت کاری میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں زرعی ماہرین نے مقامی اور جاپانی اقسام کے اشتراک سے ‘نئیم 2023’ نامی نئی قسم تیار کر لی ہے، جو کم کھاد اور کم وسائل میں بھرپور پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق زرعی تحقیقاتی ادارہ مینگورہ سوات کے ‘ٹیمپرریٹ رائس ریسرچ پروگرام’ کے تحت تیار کی جانے والی یہ نئی قسم مقامی طور پر مقبول ‘بیگامائی’ (JP-5) اور جاپان کی عالمی شہرت یافتہ قسم ‘کوشی ہیکاری’ کا کامیاب اسٹریٹیجک کراس ہے۔ یہ قسم نہ صرف سرد موسم کے خلاف غیر معمولی قوتِ مدافعت رکھتی ہے بلکہ معیار اور ذائقے میں بھی بین الاقوامی معیار پر پورا اترتی ہے۔
کم لاگت اور اعلیٰ پیداوار
نئیم 2023 کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی کم زرخیز زمین پر بہترین کارکردگی ہے۔ موجودہ دور میں جہاں کھاد کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، یہ قسم کم نائٹروجن کے استعمال کے باوجود 60 سے 70 من فی ایکڑ تک پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خصوصیت کسانوں کے لیے معاشی طور پر انتہائی سود مند ثابت ہوگی۔
معیار اور مارکیٹ ویلیو
نئیم 2023 کے دانے مختصر اور موٹے ہیں، جو پکنے کے بعد نرم اور مخصوص چپچپی ساخت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ خصوصیت بالائی علاقوں کے صارفین میں بے حد مقبول ہے۔ ابتدائی فیلڈ نتائج اور تاجروں کے تبصروں کے مطابق، مارکیٹ میں اس کی قیمت ‘سواتی 2014’ اور ‘فخرِ ملاکنڈ’ جیسی معروف اقسام سے بھی زیادہ ہونے کی توقع ہے، جس سے مقامی کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
بڑھتی ہوئی مقبولیت
ملاکنڈ ڈویژن بشمول سوات، دیر (میدان، جندول، منڈہ، سمرباغ) اور دیگر ملحقہ اضلاع میں اس بیج کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کسانوں نے نئیم 2023 کے نتائج پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، اور قوی امکان ہے کہ یہ جلد ہی خطے کی نئی ‘ٹریڈ مارک’ قسم بن کر ابھرے گی۔