نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر عدمِ توجہی کے باعث خطے کا امن و استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی تنازعات کے پُر امن اور سفارتی حل کا حامی ہے۔
تفصیلات کے مطابق منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے تنازعات عالمی امن کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے سامنے غربت، ناخواندگی، موسمیاتی تبدیلی، غذائی عدم تحفظ اور قدرتی آفات جیسے سنگین چیلنجز موجود ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے خطے کے تمام ممالک کا تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں موسمیاتی بحران تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ، سیلابوں کی تباہ کاریوں اور دیگر قدرتی آفات نے معیشتوں کو کمزور کر دیا ہے جبکہ قومی سلامتی کی صورتحال بھی دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم نے پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام کو انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے خطوں میں شامل ہے اس لیے خطے کے تمام ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مشترکہ مستقبل، پائیدار ترقی اور باہمی مفاد کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی روابط، باہمی اعتماد اور تعاون ہی مشترکہ خوشحالی کی واحد ضمانت ہیں۔
دیکھیں: اقوامِ متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی تصدیق کردی، پاکستان کا اظہارِ تشویش