ایران پر امریکی فضائی حملوں اور درجنوں پاسدارانِ انقلاب کے اہداف پر بمباری کے بعد آئی آر جی سی نے شدید جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

July 30, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس اور نوجوانوں کے لیے میرٹ پر مبنی اصلاحات کا مطالبات کیا ہے۔

July 30, 2026

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 4 اکتوبر احتجاج کیس میں غیر حاضری پر علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

July 30, 2026

طالبان کے پرپیگنڈا پلیٹ فارم المرصاد کی جانب سے پاکستان پر الزامات دراصل افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش کی محفوظ پناہ گاہوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔

July 30, 2026

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ماشکیل واقعے کے چند روز بعد ایک اور دلخراش سانحہ۔

July 30, 2026

حلوہ پکاؤ اور کھاؤ۔۔۔ ایک علامتی کہانی کے پردے میں چھپا سوال: کیا خیبرپختونخوا کے عوام نااہل قیادت کے سائے تلے اپنا مستقبل داؤ پر لگاتے رہیں گے؟

July 30, 2026

کیچ سے اغوا ہونے والے 6 مزدوروں کی لاشیں تربت سے برآمد

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ماشکیل واقعے کے چند روز بعد ایک اور دلخراش سانحہ۔
کیچ

ستائیس جولائی کو اغوا کیے گئے چھ مزدور بے دردی سے قتل، کیچ سے لاشیں برآمد۔ چند روز قبل مشکیل میں بھی پانچ مزدوروں کا قتل، بلوچستان میں تشویشناک صورتحال۔

July 30, 2026

بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ضلع کیچ کے علاقے نصیر آباد میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

اس واقعے کے بعد حالیہ دنوں میں مزدوروں پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مقتولین کو 27 جولائی کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب دہشت گردوں نے مزدوروں کے ایک گروہ پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک مزدور جاوید موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا تھا، جبکہ چھ افراد کو ساتھ لے جایا گیا تھا۔ اب ان تمام مغوی مزدوروں کی لاشیں کیچ کے علاقے نصیر آباد سے برآمد ہوئی ہیں۔

مزدوروں کی شناخت

شہید ہونے والے مزدوروں میں چار کا تعلق پنجاب جبکہ دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا گیا ہے۔ مقتولین کی شناخت محمد ارشد، محمد تیمور، محمد پرویز، محمد وزیر، محمد امجد اور محمد یحییٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل بلوچستان کے ضلع مشکیل میں بھی دہشت گردوں نے پانچ غیر مقامی مزدوروں کو قتل کر دیا تھا۔ مسلسل پیش آنے والے ان حملوں نے بلوچستان میں مزدوروں کی سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں کے خلاف اس نوعیت کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے تقریباً ہر ہفتے یا ہر ماہ اسی طرز کے دلخراش واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش طبقے کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس تسلسل کے باعث نہ صرف متاثرہ خاندانوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے بلوچستان کا رخ کرنے والے مزدور طبقے میں بھی عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ سکیورٹی حلقوں کے مطابق ایسے واقعات کا مقصد صوبے میں خوف کی فضا قائم رکھنا اور ترقیاتی و معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

دیکھیے: سوات اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

ایران پر امریکی فضائی حملوں اور درجنوں پاسدارانِ انقلاب کے اہداف پر بمباری کے بعد آئی آر جی سی نے شدید جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

July 30, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس اور نوجوانوں کے لیے میرٹ پر مبنی اصلاحات کا مطالبات کیا ہے۔

July 30, 2026

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 4 اکتوبر احتجاج کیس میں غیر حاضری پر علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

July 30, 2026

طالبان کے پرپیگنڈا پلیٹ فارم المرصاد کی جانب سے پاکستان پر الزامات دراصل افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش کی محفوظ پناہ گاہوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔

July 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *