لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

کیچ سے اغوا ہونے والے 6 مزدوروں کی لاشیں تربت سے برآمد

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ماشکیل واقعے کے چند روز بعد ایک اور دلخراش سانحہ۔
کیچ

ستائیس جولائی کو اغوا کیے گئے چھ مزدور بے دردی سے قتل، کیچ سے لاشیں برآمد۔ چند روز قبل مشکیل میں بھی پانچ مزدوروں کا قتل، بلوچستان میں تشویشناک صورتحال۔

July 30, 2026

بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ضلع کیچ کے علاقے نصیر آباد میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

اس واقعے کے بعد حالیہ دنوں میں مزدوروں پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مقتولین کو 27 جولائی کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب دہشت گردوں نے مزدوروں کے ایک گروہ پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک مزدور جاوید موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا تھا، جبکہ چھ افراد کو ساتھ لے جایا گیا تھا۔ اب ان تمام مغوی مزدوروں کی لاشیں کیچ کے علاقے نصیر آباد سے برآمد ہوئی ہیں۔

مزدوروں کی شناخت

شہید ہونے والے مزدوروں میں چار کا تعلق پنجاب جبکہ دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا گیا ہے۔ مقتولین کی شناخت محمد ارشد، محمد تیمور، محمد پرویز، محمد وزیر، محمد امجد اور محمد یحییٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل بلوچستان کے ضلع مشکیل میں بھی دہشت گردوں نے پانچ غیر مقامی مزدوروں کو قتل کر دیا تھا۔ مسلسل پیش آنے والے ان حملوں نے بلوچستان میں مزدوروں کی سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں کے خلاف اس نوعیت کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے تقریباً ہر ہفتے یا ہر ماہ اسی طرز کے دلخراش واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش طبقے کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس تسلسل کے باعث نہ صرف متاثرہ خاندانوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے بلوچستان کا رخ کرنے والے مزدور طبقے میں بھی عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ سکیورٹی حلقوں کے مطابق ایسے واقعات کا مقصد صوبے میں خوف کی فضا قائم رکھنا اور ترقیاتی و معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

دیکھیے: سوات اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *