شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

September 19, 2026

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

September 19, 2026

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

September 18, 2026

افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کو اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا ہے۔

September 18, 2026

کیچ سے اغوا ہونے والے 6 مزدوروں کی لاشیں تربت سے برآمد

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ماشکیل واقعے کے چند روز بعد ایک اور دلخراش سانحہ۔
کیچ

ستائیس جولائی کو اغوا کیے گئے چھ مزدور بے دردی سے قتل، کیچ سے لاشیں برآمد۔ چند روز قبل مشکیل میں بھی پانچ مزدوروں کا قتل، بلوچستان میں تشویشناک صورتحال۔

July 30, 2026

بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ضلع کیچ کے علاقے نصیر آباد میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

اس واقعے کے بعد حالیہ دنوں میں مزدوروں پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مقتولین کو 27 جولائی کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب دہشت گردوں نے مزدوروں کے ایک گروہ پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک مزدور جاوید موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا تھا، جبکہ چھ افراد کو ساتھ لے جایا گیا تھا۔ اب ان تمام مغوی مزدوروں کی لاشیں کیچ کے علاقے نصیر آباد سے برآمد ہوئی ہیں۔

مزدوروں کی شناخت

شہید ہونے والے مزدوروں میں چار کا تعلق پنجاب جبکہ دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا گیا ہے۔ مقتولین کی شناخت محمد ارشد، محمد تیمور، محمد پرویز، محمد وزیر، محمد امجد اور محمد یحییٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل بلوچستان کے ضلع مشکیل میں بھی دہشت گردوں نے پانچ غیر مقامی مزدوروں کو قتل کر دیا تھا۔ مسلسل پیش آنے والے ان حملوں نے بلوچستان میں مزدوروں کی سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں کے خلاف اس نوعیت کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے تقریباً ہر ہفتے یا ہر ماہ اسی طرز کے دلخراش واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش طبقے کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس تسلسل کے باعث نہ صرف متاثرہ خاندانوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے بلوچستان کا رخ کرنے والے مزدور طبقے میں بھی عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ سکیورٹی حلقوں کے مطابق ایسے واقعات کا مقصد صوبے میں خوف کی فضا قائم رکھنا اور ترقیاتی و معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

دیکھیے: سوات اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

September 19, 2026

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

September 19, 2026

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

September 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *