کینیا کی ایک مقامی عدالت نے افغانستان کی سابق پارلیمنٹ کے رکن ظاہر قدیر کو امریکہ کے حوالے کرنے کا اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔ کینیا کی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے طویل قانونی کاروائی اور امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ حکم جاری کیا۔
سنگین الزامات کی نوعیت
سابق افغان قانون ساز ظاہر قدیر پر بین الاقوامی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ اور اسلحے کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ امریکی تحقیقاتی اداروں کے مطابق وہ ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ رہے ہیں جو عالمی سطح پر ممنوعہ اشیاء کی نقل و حمل میں ملوث تھا۔
گرفتاری کا پس منظر
واضح رہے کہ ظاہر قدیر کو کچھ عرصہ قبل امریکہ کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ اور باقاعدہ درخواست پر کینیا میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امریکہ نے ان کی حوالگی کے لیے کینیا کی حکومت سے رابطہ کیا تھا، جس پر قانونی چارہ جوئی کے بعد اب عدالت نے اپنی مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔
قانونی پیش رفت
عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف پیش کیے گئے شواہد ان کی حوالگی کے لیے کافی ہیں، جس کے بعد اب انہیں جلد ہی امریکی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں ان پر وفاقی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر کا ڈیورنڈ لائن کو پاک افغان مستقل سرحد تسلیم کرنے کا اعلان