سابق امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے پاکستان کی حالیہ انسدادِ دہشت گردی کاروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے “غلط فیصلے” قرار دیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اور علاقائی تجزیہ کاروں نے ان کے اس بیان کو اپنی ماضی کی ناکام پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
زلمے خلیل زاد نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائی کاروائیوں میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں اور انہوں نے پاکستانی قیادت کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم ان کی یہ تنقید ان کے اپنے دورِ سفارت کے ان اقدامات کو نظرانداز کرتی ہے جن کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کا مرکز بن چکا ہے۔
دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ دوحہ فریم ورک جس کی قیادت خلیل زاد نے کی تھی، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کو یقینی بنانے میں مکمل ناکام رہا۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹ اس حقیقت کی دستاویزی گواہی دیتی ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں اور 13 ہزار سے زائد غیر ملکی جنگجو موجود ہیں، جو قریبی ممالک بالخصوص پاکستان کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
Again, there have been horrendous Pakistani air attacks on #Afghanistan. According to authoritative sources, many innocent women, children and elderly have been killed and wounded. I condemn these attacks.
— Zalmay Khalilzad (@realZalmayMK) February 22, 2026
Why is #Pakistan doing this? Fundamentally, the answer lies in years…
ماہرین کے مطابق جس واپسی کے عمل پر خلیل زاد نے مذاکرات کیے، اس کے نتیجے میں افغان سکیورٹی اداروں کو کمزور اور زوال کا سامنا ہوا اور کالعدم ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔ پاکستان کی حالیہ کاروائیاں کسی “مداخلت” کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹی ٹی پی کے ان مسلسل سرحد پار حملوں کا جواب ہیں جن کے خلاف دوحہ معاہدے میں کوئی مؤثر نفاذ کا میکانزم نہیں رکھا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ برسوں کی سفارتی کوششوں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور متعدد وارننگز کے بعد کی جانے والی ان کاروائیوں کو “جذباتی” ظاہر کرنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ پائیدار علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑا جائے، نہ کہ سابقہ ناکام معاہدوں کے اثرات سے زبانی فاصلہ اختیار کر کے حقائق سے نظریں چرائی جائیں۔
دیکھیے: پاکستان نے افغانستان میں خوارج کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی