افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ خطے میں امن معاہدے کی ’’گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ اور معاہدے کا انحصار پاکستان کی سنجیدگی پر ہے۔ تاہم سکیورٹی حلقے اور زمینی حقائق اس کے برعکس بتاتے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق معاہدے اور فیصلے کا انحصار افغان طالبان کی پالیسیوں اور طرزِ عمل پر ہے، جو سرحد پار دہشت گرد گروہوں بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان اور داعش خراسان کو پناہ گاہیں، سہولیات اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ خلیل زاد کی گفتگو اور مذاکرات کی باتوں کے برعکس افغان طالبان کا عملی رویّہ غیر سنجیدگی اور دہشت گرد گروہوں سے روابط پر استدلال کرتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان کے دہشت گرد تنظیموں سے گہرے روابط اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ مذاکراتی بیانات اور دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کے باوجود انکے خلاف موثر و عملی اقدامات کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے نہ تو افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے مؤثر و عملی اقدامات کیے ہیں اور نہ ہی سرحد پار حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ دوہرا معیار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی معاہدہ یا نگرانی کے اقدامات ممکن ہیں تو ان کا انحصار مکمل طور پر طالبان کی طرف سے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات منقطع کرنے اور عملی سنجیدگی دکھانے پر ہے، نہ کہ پاکستان کی نیت پر یا پھر گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے جیسے بیانات پر۔
اس تناظر میں زمینی حقیقت یہی کہتے ہیں کہ طالبان کی موجودہ پالیسیاں اور دہشت گردوں کے ساتھ روابط کسی بامعنی معاہدے کے امکانات کو شدید محدود کر دیتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات اٹھا رہا ہے، اور طالبان کی غیر سنجیدگی خطے کی صورتحال کو مزید گمبھیر بنا رہی ہے۔
دیکھیں: برطانیہ میں غیر قانونی مقیم افغان شہری کی 2 خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، گرفتار کر لیا گیا