وفاقی وزیر خواجہ آصف نے افغان طالبان حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں بہت سی غلطیاں ہوئی ہوں گی، لیکن افغانوں کی مہمان نوازی سب سے سنگین غلطی ثابت ہوئی۔ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے افغان رجیم کے رویے اور الزامات پر گہرے دکھ اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔
عہد شکنی کا الزام
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ دعوے ان لوگوں کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں جو خود مسجدوں پر حملے کرواتے اور سجدے میں گرے نمازیوں کو شہید کرتے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ نہتے شہریوں، بازاروں اور اسکولوں کو نشانہ بنانے والے اور معصوم بچوں کو خون میں نہلانے والے آج ہمیں درس دے رہے ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق ان لوگوں کا ذریعہ معاش منشیات کی اسمگلنگ ہے اور یہ اس ریاست پر حملہ آور ہیں جس نے نصف صدی تک انہیں پناہ فراہم کی۔
یہ دعویٰ انکی طرف سے آرہا ھے جو مسجدوں پہ حملے کرواتے ھیں ۔ سر بسجود نمازیوں کو شہید کرتے ھیں۔ نہتے شہریوں اور مارکیٹوں سکولوں کو نشانہ بناتے ھیں۔ معصوم بچوں کو خون سے نہلاتے ھیں۔ منشیات کی سمگلنگ جنکا ذریعہ آمدن ھو۔ محسن کش لوگ اس ریاست پہ حملہ آور ھیں جس نے پچاس سال سے انکو… https://t.co/twfeYrdopq
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 17, 2026
پاکستان کی قربانیاں
خواجہ آصف نے پاکستان کی تاریخی قربانیوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مٹی نے نہ صرف انہیں جگہ دی بلکہ ان کی خاطر ایک عالمی سپر پاور سے بھی ٹکرا گیا۔ ہم نے ان کی تین نسلوں کی میزبانی کی لیکن بدلے میں ہمیں محسن کشی ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ جو وعدے کرتے ہیں انہیں پورا نہیں کرتے اور اپنی ہی کمٹمنٹ آنر کرنے کے لیے اربوں روپے تاوان مانگتے ہیں۔
تاریخی غلطی کا اعتراف
اپنے بیان کے اختتام پر وفاقی وزیر نے نہایت مایوسی کے عالم میں کہا کہ افغانوں کی میزبانی ہماری تاریخ کی سب سے بڑی اور فاش غلطی تھی، جس پر وہ اللہ سے معافی کے طلبگار ہیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی اور الزامات کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
دیکھیے: کابل حملہ: سینکڑوں ہلاکتوں کے افغان دعوے مگر شواہد کہاں ہیں؟ تحقیقات کے مطالبات شدت اختیار کر گئے