ایران کے سرکاری نیوز نیٹ ورک نے امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ اعلان کے فوری بعد حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور 7 دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا۔ تہران سمیت مختلف شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کا سخت ردعمل
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا” اور ایران اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ذمہ داران کو پچھتاوے پر مجبور کرے گا۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے 37 برس حکمت و بصیرت سے قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ملک ایک مشکل دور سے گزرے گا۔
خامنہ ای کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟
نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے نے آیت اللہ خامنہ ای کی لوکیشن معلوم کر کے اسرائیل کو فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے خفیہ اجلاس کی نشاندہی کی، جس کے بعد اسرائیل نے حملہ کیا،سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت کو ٹریک کر رہی تھی۔
تہران میں واقع قیادت کمپاؤنڈ میں ہونے والے خفیہ اجلاس کی اطلاع امریکا کو پہلے سے تھی،امریکا اور اسرائیل نے خامنہ ای کی موجودگی کی تصدیق کے بعد حملے کا وقت تبدیل کیا۔
سی آئی اے کو خامنہ ای کے روزمرہ معمولات اور خفیہ ٹھکانوں تک رسائی حاصل ہو چکی تھی۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور آئین کا آرٹیکل 111
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت عارضی لیڈرشپ کونسل کی تشکیل کی جا رہی ہے۔ اس کونسل میں صدرِ مملکت، عدلیہ کے سربراہ اور شوریٰ نگہبان کے ایک فقیہ شامل ہوں گے، جنہیں مجمع تشخیص مصلحت نظام منتخب کرے گا۔ یہ کونسل نئے رہبر کے انتخاب تک ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
آئینی طور پر کونسل کو مکمل اختیارات حاصل نہیں ہوتے، اور بعض بڑے فیصلوں، جنگ یا امن کا اعلان، نظام کی عمومی پالیسی، ریفرنڈم، صدر کا مواخذہ، اعلیٰ عسکری قیادت کی تقرری یا برطرفی کے لیے مجمع تشخیص کی تین چوتھائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
امریکی اڈوں پر ایرانی جوابی حملے
خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دبئی، دوحہ اور منامہ میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ واشنگٹن اور تل ابیب نے حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے دفاعی تیاری بڑھا دی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے خامنہ ای کی ہلاکت کو “انصاف” قرار دیا۔
عوامی ردعمل: تہران سے مشہد تک سوگ
ہلاکت کی خبر کے بعد ہزاروں افراد تہران کی سڑکوں پر نکل آئے۔ انقلاب اسکوائر پر فجر سے قبل مجمع اکٹھا ہوا۔ مشہد میں امام رضا کے مزار پر سیاہ پرچم لہرایا گیا۔ بغداد، کربلا اور کشمیر سے بھی سوگ کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عوام کی بڑی تعداد نے اسے “قومی سانحہ” قرار دیا۔
رہبرِ اعلیٰ کا عہدہ: پس منظر اور اختیارات
ایران میں رہبرِ اعلیٰ کا منصب 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں قائم ہوا۔ خمینی 1989 تک اس منصب پر فائز رہے، جس کے بعد علی خامنہ ای کو دوسرا رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا اور وہ فروری 2026 تک اس عہدے پر رہے۔
آئین کے مطابق رہبر کو مسلح افواج کا سپریم کمانڈر، جنگ یا امن کے اعلان، اعلیٰ عدالتی و عسکری تقرریوں، ریفرنڈم اور عمومی پالیسی سازی سمیت وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ وہ شوریٰ نگہبان کے چھ ارکان اور چیف جسٹس کا تقرر کرتے ہیں، اور صدر کی برطرفی بھی مخصوص حالات میں ممکن ہے۔
مجلسِ رہبری اور نئے قائد کا انتخاب
ایران میں 88 علما پر مشتمل مجلسِ رہبری رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرتی ہے۔ اس کے ارکان ہر آٹھ سال بعد منتخب ہوتے ہیں، تاہم امیدواروں کی منظوری شوریٰ نگہبان دیتی ہے۔ اجلاس کے درست ہونے کے لیے دو تہائی ارکان کی موجودگی ضروری ہے اور نئے رہبر کے انتخاب کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد 1989 میں چند گھنٹوں میں جانشین کا فیصلہ کر لیا گیا تھا، اس مثال کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ اس بار بھی عمل تیز ہو۔
ممکنہ جانشین اور پاسدارانِ انقلاب کا کردار
سیاسی حلقوں میں ممکنہ جانشینوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ ماضی میں خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای اور سابق عدلیہ سربراہ ابراہیم رئیسی کے نام زیرِ بحث رہے، تاہم رئیسی 2024 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قیادت نئے رہبر کے انتخاب میں اہم اثر رکھ سکتی ہے، کیونکہ قومی سلامتی اور عسکری ڈھانچہ براہِ راست اس منصب سے منسلک ہے۔
خامنہ ای کا آخری خطاب
اپنے آخری خطاب میں خامنہ ای نے کہا تھا کہ “ایرانی قوم نے اپنے اسلامی اسباق بخوبی سیکھ لیے ہیں؛ وہ جانتی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ امام حسینؑ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا: ‘مجھ جیسا شخص یزید جیسے کی بیعت ہر گز نہیں کرے گا۔’
درحقیقت، ایران کے عوام کہہ رہے ہیں: ہمارے جیسی قوم، اپنی اس ثقافت، اس تاریخ اور ان بلند تعلیمات کے ساتھ، کبھی بھی ان فاسد رہنماؤں کی بیعت نہیں کرے گی جو آج امریکہ میں اقتدار میں ہیں۔”
خطے اور عالمی سیاست پر اثرات
ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کی ہلاکت اور اس کے بعد کے فوجی ردعمل نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ عالمی برادری نے کشیدگی کم کرنے اور فوری سفارتی مداخلت کی اپیل کی ہے، تاہم حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں ایران کے اندرونی سیاسی فیصلے اور بیرونی عسکری حکمت عملی خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔