خیبر پختونخوا حکومت کے آفیشل فیکٹ چیک یونٹ نے افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر اور اس سے وابستہ دعوے کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ یہ حالیہ پاک افغان سرحدی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کی ہے، تاہم تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس تصویر کا سرحد پار کسی بھی حالیہ تصادم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اصل حقیقت
مستند رپورٹس اور حقائق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیرِ گردش تصویر دراصل وزیرستان میں خوارج عناصر کے ایک بزدلانہ دہشت گرد حملے کی ہے، جس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے تھے۔ یہ واقعہ مکمل طور پر پاکستان کی حدود کے اندر پیش آیا تھا اور اس کا سرحد پار سے ہونے والی کسی فوجی جھڑپ یا حالیہ پاک افغان سرحدی تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس تصویر کو موجودہ سرحدی صورتحال سے جوڑنے کا کوئی بھی معتبر ثبوت موجود نہیں ہے۔
KP Fact Check ✅
— Fact Check – KP Govt (@factcheckkpgovt) February 26, 2026
🟠 Claim:
Zabihullah Mujahid has shared an image claiming it is linked to recent Pak-Afghan border tensions, implying that the casualties shown are a result of cross-border confrontation.
🟢 Reality:
The claim is false and misleading.
▪️ Verified reports… pic.twitter.com/j4L6KRlefy
عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش
کے پی فیکٹ چیک یونٹ نے اس عمل کو ایک دانستہ گمراہ کن حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی تصاویر کو اصل سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا ایک معروف پروپیگنڈا تکنیک ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا، عوامی جذبات کو بھڑکانا اور سرحدوں پر کشیدگی کے حوالے سے غلط بیانیہ تشکیل دینا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر متعلقہ تصاویر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا صحافتی و اخلاقی اقدار کے منافی ہے