خیبر پختونخوا حکومت نے ذبیح اللہ مجاہد کے پاک افغان سرحدی کشیدگی سے متعلق دعوے کو فیکٹ چیک میں غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیئر کی گئی تصویر وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے شہداء کی ہے جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا

February 27, 2026

وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

February 27, 2026

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلی کارروائی میں ننگرہار کے علاقے میں واقع ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

February 27, 2026

طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

February 27, 2026

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی پوزیشنز پر جوابی حملوں کے آغاز کے فوراً بعد قطر نے سفارتی سرگرمی تیز کی ہے۔ اس سے قبل بھی افغان طالبان کو بچانے کیلئے قطر متعدد بار سامنے آتا رہا ہے۔

February 27, 2026

سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان سے منسلک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے دعوے اور مبینہ جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ زمینی حقائق کو مسخ کیا جا سکے۔

February 26, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ حقیقت کے منافی، کے پی حکومت نے حقائق واضح کر دیے

خیبر پختونخوا حکومت نے ذبیح اللہ مجاہد کے پاک افغان سرحدی کشیدگی سے متعلق دعوے کو فیکٹ چیک میں غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیئر کی گئی تصویر وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے شہداء کی ہے جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا
خیبر پختونخوا حکومت نے ذبیح اللہ مجاہد کے پاک افغان سرحدی کشیدگی سے متعلق دعوے کو فیکٹ چیک میں غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیئر کی گئی تصویر وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے شہداء کی ہے جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا

وزیرستان میں دہشت گرد حملے کی تصویر کو پاک افغان سرحدی کشیدگی سے جوڑنے کی کوشش ناکام، حقائق منظرِ عام پر آگئے

February 27, 2026

خیبر پختونخوا حکومت کے آفیشل فیکٹ چیک یونٹ نے افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر اور اس سے وابستہ دعوے کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ یہ حالیہ پاک افغان سرحدی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کی ہے، تاہم تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس تصویر کا سرحد پار کسی بھی حالیہ تصادم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اصل حقیقت
مستند رپورٹس اور حقائق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیرِ گردش تصویر دراصل وزیرستان میں خوارج عناصر کے ایک بزدلانہ دہشت گرد حملے کی ہے، جس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے تھے۔ یہ واقعہ مکمل طور پر پاکستان کی حدود کے اندر پیش آیا تھا اور اس کا سرحد پار سے ہونے والی کسی فوجی جھڑپ یا حالیہ پاک افغان سرحدی تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس تصویر کو موجودہ سرحدی صورتحال سے جوڑنے کا کوئی بھی معتبر ثبوت موجود نہیں ہے۔

عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش
کے پی فیکٹ چیک یونٹ نے اس عمل کو ایک دانستہ گمراہ کن حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی تصاویر کو اصل سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا ایک معروف پروپیگنڈا تکنیک ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا، عوامی جذبات کو بھڑکانا اور سرحدوں پر کشیدگی کے حوالے سے غلط بیانیہ تشکیل دینا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر متعلقہ تصاویر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا صحافتی و اخلاقی اقدار کے منافی ہے

متعلقہ مضامین

وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

February 27, 2026

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلی کارروائی میں ننگرہار کے علاقے میں واقع ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

February 27, 2026

طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

February 27, 2026

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی پوزیشنز پر جوابی حملوں کے آغاز کے فوراً بعد قطر نے سفارتی سرگرمی تیز کی ہے۔ اس سے قبل بھی افغان طالبان کو بچانے کیلئے قطر متعدد بار سامنے آتا رہا ہے۔

February 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *