"> خیبر پختونخوا امن و امان
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا۔ ان کے مطابق انتہا پسندی کی سیاست سے سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہورہا ہے۔

October 9, 2026

ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سعودی اتحاد نے حوثیوں کو بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا، جبکہ او آئی سی نے حملوں کی مذمت کی۔

October 9, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی کی ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

October 9, 2026

خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ کے دوران آٹے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ سرکاری گندم کے ذخائر کے دعوؤں کے باوجود عوام مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

October 9, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل اقتدار کے باوجود چارسدہ کے سرکاری ہسپتال میں طبی سہولیات، مشینری اور علاج کی دستیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

October 9, 2026

واٹس ایپ گروپس کی لڑائیاں اور ایک دوسرے کو ایکسپوز کرنے کی دھمکیاں ثابت کرتی ہیں کہ جدوجہد اب بانی کی رہائی یا عوامی مسائل کی نہیں، بلکہ محض اقتدار کے بٹوارے اور ذاتی انا کی رہ گئی ہے۔

October 9, 2026

کیا کے پی لاوارث چھوڑ دیا گیا؟

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
خیبر پختونخوا کی حالت

خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی، منشیات اور جرائم پر پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں اور پولیس فنڈز کی عدم دستیابی پر ایک مختصر تجزیاتی جائزہ۔

October 3, 2026

خیبر پختونخوا ایک بار پھر شدید بدامنی اور منظم جرائم کے نرغے میں آ چکا ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے صوبے پر حکومت کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ صوبائی قیادت کی تمام تر توجہ عوامی تحفظ کے بجائے صرف سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے۔

صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور منشیات کی کھلے عام اسمگلنگ انتظامی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت پر ہمیشہ شدت پسندوں کے خلاف نرم گوشہ رکھنے کا الزام رہا ہے۔ جرائم پیشہ مافیاز اور دہشتگرد عناصر کے مبینہ گٹھ جوڑ کو توڑنے میں حکومت مکمل طور پر بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس روزانہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے مگر صوبائی حکومت ان کی قربانیوں سے غافل ہے۔ پولیس فورس کو جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں اور ضروری آلات فراہم نہیں کیے گئے۔ انسداد دہشتگردی کے لیے مختص کیے گئے خطیر فنڈز کہاں خرچ ہوئے، اس کا شفاف آڈٹ کروانے سے صوبائی حکومت مسلسل گریزاں ہے۔

صوبے کے نوجوان منشیات کے زہر کی لپیٹ میں آ رہے ہیں اور صوبائی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ صوبائی وسائل کو عوامی فلاح اور اداروں کی مضبوطی کے بجائے سیاسی جلسوں اور بیانیوں پر ضائع کیا جا رہا ہے۔ پشاور سے لے کر قبائلی اضلاع تک عام شہری خوف اور شدید عدم تحفظ کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

تحریک انصاف اب اپنی طویل المدتی انتظامی نااہلی اور ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر نہیں ڈال سکتی۔ جب تک ذاتی سیاست سے نکل کر قانون کی حکمرانی اور پولیس فورس کی حقیقی پشت پناہی نہیں کی جائے گی، تب تک صوبے میں امن کا قیام اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ ممکن نہیں۔

دیکھیے: ہسپتالوں کی زبوں حالی اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام

متعلقہ مضامین

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا۔ ان کے مطابق انتہا پسندی کی سیاست سے سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہورہا ہے۔

October 9, 2026

ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سعودی اتحاد نے حوثیوں کو بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا، جبکہ او آئی سی نے حملوں کی مذمت کی۔

October 9, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی کی ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

October 9, 2026

خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ کے دوران آٹے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ سرکاری گندم کے ذخائر کے دعوؤں کے باوجود عوام مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

October 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *