خیبر پختونخوا ایک بار پھر شدید بدامنی اور منظم جرائم کے نرغے میں آ چکا ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے صوبے پر حکومت کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ صوبائی قیادت کی تمام تر توجہ عوامی تحفظ کے بجائے صرف سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے۔
صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور منشیات کی کھلے عام اسمگلنگ انتظامی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت پر ہمیشہ شدت پسندوں کے خلاف نرم گوشہ رکھنے کا الزام رہا ہے۔ جرائم پیشہ مافیاز اور دہشتگرد عناصر کے مبینہ گٹھ جوڑ کو توڑنے میں حکومت مکمل طور پر بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس روزانہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے مگر صوبائی حکومت ان کی قربانیوں سے غافل ہے۔ پولیس فورس کو جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں اور ضروری آلات فراہم نہیں کیے گئے۔ انسداد دہشتگردی کے لیے مختص کیے گئے خطیر فنڈز کہاں خرچ ہوئے، اس کا شفاف آڈٹ کروانے سے صوبائی حکومت مسلسل گریزاں ہے۔
صوبے کے نوجوان منشیات کے زہر کی لپیٹ میں آ رہے ہیں اور صوبائی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ صوبائی وسائل کو عوامی فلاح اور اداروں کی مضبوطی کے بجائے سیاسی جلسوں اور بیانیوں پر ضائع کیا جا رہا ہے۔ پشاور سے لے کر قبائلی اضلاع تک عام شہری خوف اور شدید عدم تحفظ کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
تحریک انصاف اب اپنی طویل المدتی انتظامی نااہلی اور ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر نہیں ڈال سکتی۔ جب تک ذاتی سیاست سے نکل کر قانون کی حکمرانی اور پولیس فورس کی حقیقی پشت پناہی نہیں کی جائے گی، تب تک صوبے میں امن کا قیام اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ ممکن نہیں۔