وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

October 3, 2026

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

October 3, 2026

حکومت سے مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں لانگ مارچ کی تاریخ بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر غور کیا گیا۔

October 3, 2026

دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے ورکنگ باؤنڈری پر بی ایس ایف کی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہریوں کے قتل پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

October 3, 2026

ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر کے بھاری اسلحہ برآمد کر لیا۔

October 3, 2026

کیا کے پی لاوارث چھوڑ دیا گیا؟

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
خیبر پختونخوا کی حالت

خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی، منشیات اور جرائم پر پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں اور پولیس فنڈز کی عدم دستیابی پر ایک مختصر تجزیاتی جائزہ۔

October 3, 2026

خیبر پختونخوا ایک بار پھر شدید بدامنی اور منظم جرائم کے نرغے میں آ چکا ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے صوبے پر حکومت کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ صوبائی قیادت کی تمام تر توجہ عوامی تحفظ کے بجائے صرف سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے۔

صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور منشیات کی کھلے عام اسمگلنگ انتظامی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت پر ہمیشہ شدت پسندوں کے خلاف نرم گوشہ رکھنے کا الزام رہا ہے۔ جرائم پیشہ مافیاز اور دہشتگرد عناصر کے مبینہ گٹھ جوڑ کو توڑنے میں حکومت مکمل طور پر بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس روزانہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے مگر صوبائی حکومت ان کی قربانیوں سے غافل ہے۔ پولیس فورس کو جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں اور ضروری آلات فراہم نہیں کیے گئے۔ انسداد دہشتگردی کے لیے مختص کیے گئے خطیر فنڈز کہاں خرچ ہوئے، اس کا شفاف آڈٹ کروانے سے صوبائی حکومت مسلسل گریزاں ہے۔

صوبے کے نوجوان منشیات کے زہر کی لپیٹ میں آ رہے ہیں اور صوبائی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ صوبائی وسائل کو عوامی فلاح اور اداروں کی مضبوطی کے بجائے سیاسی جلسوں اور بیانیوں پر ضائع کیا جا رہا ہے۔ پشاور سے لے کر قبائلی اضلاع تک عام شہری خوف اور شدید عدم تحفظ کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

تحریک انصاف اب اپنی طویل المدتی انتظامی نااہلی اور ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر نہیں ڈال سکتی۔ جب تک ذاتی سیاست سے نکل کر قانون کی حکمرانی اور پولیس فورس کی حقیقی پشت پناہی نہیں کی جائے گی، تب تک صوبے میں امن کا قیام اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ ممکن نہیں۔

دیکھیے: ہسپتالوں کی زبوں حالی اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام

متعلقہ مضامین

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

October 3, 2026

حکومت سے مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں لانگ مارچ کی تاریخ بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر غور کیا گیا۔

October 3, 2026

دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے ورکنگ باؤنڈری پر بی ایس ایف کی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہریوں کے قتل پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

October 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *