پاکستان کا نظامِ صحت اس وقت گہرے تعمیراتی بحران کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ دہائیوں سے قائم مرکزی انتظامی ڈھانچہ اور فنڈز کی غیر متوازن تقسیم ہے۔ تحقیقات مطابق کے مطابق اس دردناک سچائی کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان کا موجودہ صحت کا نظام 24 کروڑ سے زائد آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
طبی تحقیقاتی مقالے کے مطابق پاکستان میں صحت پر کیے جانے والے اخراجات جی ڈی پی کا محض 1.2 فیصد کے قریب ہیں، جبکہ فی کس اخراجات صرف 38 امریکی ڈالر ہیں۔۔۔ جو خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت ($57) اور فلپائن ($165) سے انتہائی کم ہیں۔ لیکن اس قلیل بجٹ کا سب سے بھیانک پہلو اس کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں کا 80 فیصد سے زائد صحت کا بجٹ اکیلے صوبائی دارالحکومتوں (لاہور، کراچی، پشاور) کے بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیہی اور پسماندہ اضلاع بنیادی صحت کی سہولیات سے مکمل محروم ہیں اور کمیونٹی ہیلتھ انڈیکس میں شہری اور دیہی ناہمواری کا تناسب 17 گنا سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ یہی انتظامی عدم توازن ملک کے مرکزی ہسپتالوں پر مریضوں کا غیر معمولی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے سنسنی خیز اعداد و شمار اس انتظامی تباہی کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ملک کے مرکزی ہسپتالوں جیسے میو ہسپتال، جناح ہسپتال، اور پمز پر دور دراز کے علاقوں سے آنے والے مریضوں کا غیر انسانی بوجھ ہے، جہاں ایک ایک بیڈ پر 2 سے 3 مریض لٹانے پر مجبور ہیں۔
محض ایک رزلٹ، ٹیسٹ یا دل کے بنیادی علاج کے لیے مریضوں کو دور دراز علاقوں سے سفر طے کر کے بڑے شہروں میں آنا پڑتا ہے۔ 80 فیصد سے زائد حادثاتی اور ہارٹ اٹیک کے مریض گولڈن آور میں علاج نہ ملنے کی وجہ سے راستے میں ایمبولینسز کے اندر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں، طبی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر سال 32,000 سے زائد میڈیکل گریجویٹس تیار ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے 40 فیصد سے زائد ڈاکٹرز اور ماہرین ملک چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ دیہی اور دور دراز اضلاع میں ہسپتالوں کے انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اور انتہائی غیر محفوظ حالات ہیں۔
یہ صورتحال صرف موجودہ طبی سہولیات کے دباؤ تک محدود نہیں بلکہ صحت کے نظام میں دستیاب انسانی وسائل کی تقسیم کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اگر صوبوں کو ڈویژنل اور زونل بنیادوں پر چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کر دیا جائے تو ہر نئے انتظامی مرکز میں قانوناً اور پالیسی کے تحت ایک جدید ٹراما سینٹر، کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ اور ‘ٹیچنگ ہسپتال’ بنانا ریاست کی مجبوری بن جائے گا۔
اس سے نہ صرف مقامی سطح پر جدید علاج میسر آئے گا بلکہ ڈاکٹرز کو ان کے اپنے اضلاع میں بہترین روزگار اور تحفظ مل سکے گا۔ پاکستان کا صحت سہولت پروگرام (صحت کارڈ) بھی اس وقت تک اپنے مکمل نتائج نہیں دے سکتا جب تک پسماندہ اضلاع میں پینلائزڈ ہسپتال موجود نہ ہوں۔
اس تمام صورتحال کا حل کسی بڑے پیکج یا عارضی بنیادوں میں نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات میں پنہاں ہے۔ اس تباہی سے نکلنے کا واحد حل صحت کے انتظامی امور کی فوری ترجیحی بنیادوں پر نچلی سطح تک منتقلی اور نئے، چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی جانی تحفظ، صحت کی منصفانہ تقسیم اور ایمبولینسوں میں سسکتے مریضوں کو “سفرِ موت” سے بچانے کی حتمی اخلاقی اور قانونی ضرورت ہے۔