خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی ہلچل کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکمتِ عملی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مخالف حلقوں کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے نام پر صرف صوبے کے اندر چکر لگائے جا رہے ہیں۔
سوات کے علاقے بریکوٹ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر امجد کی گمشدگی پر بھی نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ انہوں نے احتجاج سے بچنے کے لیے اپنے ہی مبینہ اغوا کا ڈرامہ رچایا ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق قیادت کی سطح پر واضح سمت اور ہمت کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کوئی بھی رہنما قافلوں کو صوابی کی حدود سے آگے لے جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر بھی کرفیو کا بہانہ بنا کر کلاچی سے واپس ڈی آئی خان کی طرف یو ٹرن لینے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ناقدین اسے احتجاجی میدان سے باقاعدہ پسپائی قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب پشاور سے صوابی روانہ ہونے کے بجائے آفریدی گروپ کے خیبر کی طرف رخ کرنے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس اقدام کو مارچ سے توجہ ہٹانے اور اندرونی اختلافات کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق صوبائی قیادت اس وقت مکمل طور پر انتشار اور تقسیم کا شکار ہے۔ مختلف دھڑوں کی الگ الگ حکمتِ عملی کے باعث کارکنوں کا مارچ میں حصہ لینے کا حوصلہ ماند پڑ چکا ہے۔