افغان صوبے کنڑ میں حالیہ واقعہ عسکریت پسندوں کی غیر معمولی نقل و حرکت اور نئی ‘تشکیلات’ کے ظہور کے بعد رونما ہوا ہے۔ مقامی ذرائع نے ایچ ٹی این کو تصدیق کی ہے کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار سے وابستہ مسلح گروہوں نے نورستان۔ کنڑ بیلٹ میں اپنی پوزیشنیں تبدیل کیں۔
عسکری تشکیلات
مستند ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں نورستان اور کنڑ کے علاقوں میں دہشت گردوں کی نئی صف بندی دیکھی گئی تھی۔ یہ وہی علاقے ہیں جو ماضی میں بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے لیے مراکز کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مسلح عناصر کی ان مخصوص نقل و حرکت کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے ناگزیر ردِعمل سامنے آیا، جس کے نتیجے میں نارئی تحصیل کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
انسانی ڈھال کا استعمال
اطلاعات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عسکریت پسند عناصر خطرناک طرزِ عمل کے تحت دانستہ طور پر شہری آبادیوں کے اندر پناہ لیتے ہیں۔ ماہرینِ تزویرات کے مطابق مسلح گروہوں کی جانب سے بیابان علاقوں کو بطور ڈھال استعمال کرنے کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ کاروائی کی صورت میں بیانیے کا رخ ‘انسانی نقصان’ کی طرف موڑنا ہوتا ہے، تاکہ ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی پر پردہ ڈالا جا سکے۔
سرحد پار سے اشتعال انگیزی
کنڑ واقعے کے بعد سرحد پار سے بلاجواز اشتعال انگیزی کا سلسلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق افغان حدود سے فائر کیے گئے توپ خانے کے تین گولے ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقے ملنگی میں آبادی کے قریب گرے۔ اگرچہ ان گولوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اسے سرحدی کشیدگی میں اضافے کی دانستہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
مستقبل کے خطرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات کسی بلاجواز جارحیت کا نتیجہ نہیں بلکہ سرحد کے قریب موجود فوری اور قابلِ اعتبار خطرات کا ردِعمل ہیں۔ جب تک ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ نیٹ گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے، سرحدی پٹی پر ایسے واقعات کا تسلسل جاری رہے گا۔
انتظامیہ کے مطابق کنڑ کے شعبہ صحت کی ٹیمیں امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں اور اب تک 15 زخمیوں اور ایک جاں بحق فرد کی منتقلی کی تصدیق کی گئی ہے۔ صورتحال تاحال غیر واضح ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
دیکھیے: تعلیم پر پابندیاں افغانستان کے مستقبل کیلئے خطرہ ہیں، کرزئی کی طالبان پالیسیوں پر کڑی تنقید