پاکستان اور تاجکستان نے باقاعدہ مکالمے اور تکنیکی سطح پر روابط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ مسلسل تعاون ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی اور ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے تاجکستان کے وزیر برائے توانائی و آبی وسائل دالر جمعہ کے ساتھ ورچوئل اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی اور بجلی و توانائی سے متعلق منصوبوں میں اشتراک عمل کو وسعت دینے کے امکانات پر غور کیا۔
بات چیت میں علاقائی پاور کنیکٹیویٹی کے فروغ، جاری مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت اور پائیدار توانائی کے نئے مواقع کی تلاش کو خصوصی اہمیت دی گئی۔خصوصی طور پر کاسا -1000 بجلی ترسیلی منصوبے میں پیش رفت اور سرحد پار بجلی کے تبادلے کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز رہی۔
ان اقدامات کا مقصد طویل المدتی توانائی سلامتی کو مستحکم کرنا اور خطے میں معاشی انضمام کو تقویت دینا ہے۔ وزرائے توانائی نے علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی کہ مسلسل رابطہ کاری قابل اعتماد اور پائیدار توانائی حل کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے متعلقہ فورمز کے ذریعے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں جانب سے باقاعدہ مکالمے اور تکنیکی سطح پر روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ طے شدہ امور پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس امر پر اتفاق ہوا کہ مسلسل تعاون ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی اور ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔ یہ اجلاس پاکستان اور تاجکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دیکھیے: غزہ استحکام فورس: پاکستان فوجی دستے بھیجنے والے ممالک میں شامل نہیں