امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

September 25, 2026

حکام نے پی ٹی آئی کو کالعدم تنظیموں کی معاون اور انتشار پسند جماعت قرار دیتے ہوئے ریاست مخالف اقدامات پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

September 25, 2026

قومی سکیورٹی اجلاسوں سے دوری اور غیر ملکی سفیروں سے قربت؛ محمود خان اچکزئی کا متنازع کردار زیر بحث

برطانوی ہائی کمشنر کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات؛ حساس سیاسی ماحول میں غیر ملکی رابطوں اور قومی اجلاسوں سے دوری پر سوالات اٹھ گئے
برطانوی ہائی کمشنر کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات؛ حساس سیاسی ماحول میں غیر ملکی رابطوں اور قومی اجلاسوں سے دوری پر سوالات اٹھ گئے

قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی۔ ماہرین نے ملاقات کے وقت اور اپوزیشن لیڈر کے تضادات کو 'رجیم چینج' کے خدشات سے جوڑ دیا

March 12, 2026

برطانوی ہائی کمشنر جین میرئٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔ اس اہم نشست میں دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی و عالمی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی، تاہم ملک کے موجودہ حساس سیاسی تناظر میں اس ملاقات کو ماہرین اور سیاسی حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

دوران ملاقات پاکستان اور برطانیہ کے مابین دیرینہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور زیرِ بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی بھی موجود تھے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب محمود خان اچکزئی اہم قومی سکیورٹی اجلاسوں، جن کی صدارت وزیراعظم کرتے ہیں، میں بطور اپوزیشن لیڈر شرکت کے لیے وقت نہیں نکال پاتے لیکن دوسری جانب غیر ملکی سفارتکاروں کے لیے ان کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں۔ اس طرزِ عمل کو ایک بڑے تضاد سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ ملاقاتیں کسی نئے ‘رجیم چینج آپریشن’ یا کسی مخصوص ‘گیم پلان’ کا پیش خیمہ تو نہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق سفارتی آداب کا تقاضا ہے کہ ریاست سے متعلقہ معاملات میں رابطہ منتخب حکومت کے ذریعے ہو اور ایسے روابط میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں محمود خان اچکزئی کا افغانستان کے حوالے سے ہمیشہ نرم گوشہ رکھنا اور پاکستان کی پالیسیوں پر مسلسل سخت تنقید، ایسے وقت میں جب پی ٹی ایم جیسی تنظیمیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متحرک ہیں، کئی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ان ملاقاتوں کو محض اتفاق قرار دینا مشکل نظر آتا ہے اور یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا یہ سرگرمیاں کسی گہرے سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *