جدہ: او آئی سی نے مکہ مکرمہ کے علاقے کی جانب حوثیوں کی کارروائی اور سعودی عرب کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایسے حملوں سے بے گناہ شہریوں میں خوف پھیلتا ہے اور مقدس مقامات و مساجد کے تقدس کو نقصان پہنچتا ہے۔
تنظیم نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی، خودمختاری اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا۔
او آئی سی کا سخت ردعمل
او آئی سی نے کہا کہ مقدس مقامات، مساجد اور شہری تنصیبات کے خلاف حملے ناقابل قبول ہیں۔ تنظیم کے مطابق ایسی کارروائیاں اسلامی اقدار، بین الاقوامی اصولوں اور عالمی قوانین کے منافی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی اور ان کا راستہ روکنا ضروری ہے۔
او آئی سی نے اس معاملے کو صرف سعودی عرب کی سلامتی تک محدود نہیں رکھا بلکہ مقدس مقامات کے تحفظ کو پوری مسلم دنیا کے لیے اہم قرار دیا۔
سعودیہ کے ساتھ یکجہتی
اسلامی تعاون تنظیم نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
تنظیم نے سعودی عرب کی جانب سے اپنی سرزمین اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کی۔ او آئی سی نے کہا کہ مقدس مقامات کی سلامتی کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔
او آئی سی کا بیان سعودی عرب کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں سعودی حکام نے کہا کہ مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی فورسز کی جانب سے آنے والے ایک ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے تباہ کر دیا۔
سعودی حکام کے مطابق ڈرون مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کیا گیا۔ تاہم حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن کے نتیجے میں شہریوں کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
مقدس مقامات کی سلامتی
او آئی سی نے مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی کارروائی کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف شہریوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون کے واقعے اور سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ او آئی سی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدس مقامات کی سلامتی تنظیم کے لیے ایک اہم معاملہ ہے۔
دیکھیے: پاکستان حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہے، وزیراعظم