افغان رجیم کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے مخیر حضرات کے صدقہ و خیرات کی تقسیم پر بھی طالبان کے لیے بھتہ نافذ کر دیا ہے۔ سورس کے مطابق ملا ہیبت اللہ نے گزشتہ روز دو حکم نامے جاری کیے ہیں۔
ایک حکم نامے کے ذریعے مخیر حضرات کی جانب سے مستحق اور ضرورت مند لوگوں کی براہِ راست مدد پر پابندی عائد کر دی ہے، اور کہا ہے کہ کوئی بھی شخص از خود امداد تقسیم نہیں کر سکتا، ایسا کرنے کی صورت میں اسے طالبان حکومت کو ایک طے شدہ حصہ ادا کرنا ہوگا۔
اسی طرح ایک دوسرے حکم نامے میں غیر ملکی سفارت خانوں سے رابطہ کرنے اور مختلف ممالک سے مالی امداد طلب کرنے کے طریقہ کار کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ ان کے فرمان کے اس حصے کو ہیبت اللہ کا بھیک مانگنا کہا جانا چاہیے۔