میں جب ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، یہ تعلیمی بورڈ سالانہ تقریباً پچاس ارب روپے پاکستان سے باہر منتقل کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ پرچے کی حفاظت یقینی بنانے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔

April 29, 2026

شہری علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی جانوں کے تئیں طالبان کی بے حسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے معصوموں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی روش کو ظاہر کرتا ہے۔

April 29, 2026

ہلاک ہونے والے جنگجو کی شناخت قسمت اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع ڈنڈ پٹن میں طالبان کے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ مولوی نعمت اللہ کا بھائی تھا۔

April 29, 2026

اگر علاقائی ممالک بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کریں، باہمی اعتماد کو فروغ دیں اور تجارت کو سیاسی کشیدگی سے بالاتر رکھیں تو یہ خطہ ایک مضبوط معاشی بلاک میں تبدیل ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ مواقع ضائع بھی ہو سکتے ہیں۔

April 29, 2026

اپیل میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر میشا شفیع اپنے الزامات کو مکمل طور پر ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں تو دوسری جانب علی ظفر بھی خود پر لگنے والے الزامات کی مکمل طور پر تردید کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

April 29, 2026

تاجک سفیر نے پاکستان کی جانب سے علاقائی رابطوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے تاجکستان کی جانب سے پاکستان کو اضافی بجلی کی برآمد اور ایلومینیم کی تجارت میں تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا۔

April 29, 2026

علی ظفر پر جنسی ہراسانی کیس کا معاملہ؛ میشا شفیع نے 50 لاکھ ہرجانے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی

اپیل میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر میشا شفیع اپنے الزامات کو مکمل طور پر ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں تو دوسری جانب علی ظفر بھی خود پر لگنے والے الزامات کی مکمل طور پر تردید کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
علی ظفر ہراسانی کیس

لاہور ہائیکورٹ میں میشا شفیع کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے اپیل دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیشن عدالت نے کیس کے حقائق کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لیا۔

April 29, 2026

لاہور: معروف گلوکار علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان برسوں سے جاری قانونی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ میشا شفیع نے سیشن کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جس میں انہیں علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ میں میشا شفیع کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے اپیل دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیشن عدالت نے کیس کے حقائق کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لیا۔ اپیل میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر میشا شفیع اپنے الزامات کو مکمل طور پر ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں تو دوسری جانب علی ظفر بھی خود پر لگنے والے الزامات کی مکمل طور پر تردید کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے، لہذا سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے قبل سیشن کورٹ کی ہرجانے سے متعلق ڈگری کو نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ میشا شفیع نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سیشن کورٹ کی جانب سے سنائے گئے 50 لاکھ روپے ہرجانے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ یہ ہائی پروفائل کیس پاکستان کی شوبز انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں دائر ہونے والی اس تازہ اپیل کے بعد اب قانونی ماہرین کی نظریں عدالتِ عالیہ کے ممکنہ فیصلے پر لگی ہیں، جو اس کیس کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

دیکھئیے:میں بھی انسان ہوں، ہمیشہ فلٹرز جیسی نظر نہیں آ سکتی؛ جلد کے مسائل پر دنانیر مبین نے ناقدین کو کھری کھری سنا دیں

متعلقہ مضامین

میں جب ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، یہ تعلیمی بورڈ سالانہ تقریباً پچاس ارب روپے پاکستان سے باہر منتقل کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ پرچے کی حفاظت یقینی بنانے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔

April 29, 2026

شہری علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی جانوں کے تئیں طالبان کی بے حسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے معصوموں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی روش کو ظاہر کرتا ہے۔

April 29, 2026

ہلاک ہونے والے جنگجو کی شناخت قسمت اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع ڈنڈ پٹن میں طالبان کے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ مولوی نعمت اللہ کا بھائی تھا۔

April 29, 2026

اگر علاقائی ممالک بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کریں، باہمی اعتماد کو فروغ دیں اور تجارت کو سیاسی کشیدگی سے بالاتر رکھیں تو یہ خطہ ایک مضبوط معاشی بلاک میں تبدیل ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ مواقع ضائع بھی ہو سکتے ہیں۔

April 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *