اسلام آباد: وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور تاجک سفیر شریف زادہ یوسف طائر کے درمیان بدھ کو ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو مستحکم کرنے، لاجسٹکس میں بہتری اور وسطی ایشیا کو پاکستان سے جوڑنے کے لیے مربوط راہداریوں کی تعمیر پر تبادلہ خیال کیا۔ وفاقی وزیر نے علاقائی تجارت کی پائیداری کے لیے متنوع ٹرانزٹ روٹس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مربوط لاجسٹک کوریڈور بنانے کا خواہاں ہے۔
وزیرِ تجارت جام کمال نے کواڈری لیٹرل ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے فریم ورک کے نفاذ کو ٹرانزٹ تعاون کے فروغ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی رابطوں کی مضبوطی میں چین کا کردار کلیدی ہے اور صرف ایک تجارتی راستے پر انحصار پائیدار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد راہداریوں کو فعال رکھنا تجارتی تسلسل اور لچک کے لیے ضروری ہے، جبکہ ٹرانزٹ روٹس کے انتخاب میں لاگت اور کارکردگی کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
تاجک سفیر نے پاکستان کی جانب سے علاقائی رابطوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے تاجکستان کی جانب سے پاکستان کو اضافی بجلی کی برآمد اور ایلومینیم کی تجارت میں تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے کے لیے ایک بزنس ٹو بزنس فورم منعقد کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جوائنٹ اکنامک کمیشن جیسے پلیٹ فارمز کو دوطرفہ تعاون آگے بڑھانے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔