غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ مودی کے تعلق کو بھارت کیلئے انتہائی شرمناک قرار دیا ہے۔
کانگریس کے مطابق ایپسٹین نے ای میل میں واضح لکھا ہے کہ مودی نے اس سے مشورہ لیا اور اسرائیل گئے، ایسپٹین نے لکھا کہ مودی نے اسرائیل میں امریکی صدر کے فائدے کیلئے ناچ گانا کیا۔
کانگریس نے بتایا کہ وزیراعظم مودی نے 4 سے 6 جولائی 2017ء تک اسرائیل کا دورہ کیا تھا، ایسپٹین کی ای میل مودی کے دورہ اسرائیل کے 3 روز بعد لکھی گئی، اسرائیل کے دورے سے پہلے جون 2017ء میں مودی نے امریکا میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، اس سے واضح ہو گیا کہ مودی کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ گہرا اور پرانا تعلق ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت نے کہا کہ یہ قومی وقار، بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے جس پر مودی کو جوابدہ ہونا چاہیے، مودی بتائیں کہ وہ جیفری ایپسٹین سے کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟ مودی اسرائیل میں کیوں ناچے گائے؟ اس سے ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟ ایپسٹین نے مودی کے دورے کو کامیاب لکھا اس کا کیا مطلب ہے؟ قوم جاننا چاہتی ہے جیفری ایپسٹین کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے؟۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی اور ان کے اسرائیل کے دورے کا ذکر کرنے والے ای میل پیغام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کا جولائی 2017ء میں اسرائیل کا سرکاری دورہ حقیقت ہے، لیکن ای میل میں باقی تمام مبہم حوالے ایک سزا یافتہ مجرم کے فضول خیالات ہیں۔
ٹرمپ اسرائیلی اثر و رسوخ کے باعث ’کمپرومائزڈ‘ ہو گئے
امریکہ کے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق مزید خفیہ سرکاری دستاویزات منظرِ عام پر آگئی ہیں، جن میں امریکی حکام اور عالمی طاقتوں سے متعلق سنگین دعوے سامنے آئے ہیں۔
امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے جڑی تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں۔ ان میں 2 ہزار ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد تصاویر شامل ہیں، تاہم متعدد حصے خفیہ رکھے گئے ہیں جبکہ کئی صفحات مکمل طور پر سیاہ کر دیے گئے ہیں۔
دستاویزات میں ایف بی آئی کی تفتیشی رپورٹس، ای میلز، ایپسٹین کی جائیدادوں کی تفصیلات اور نیویارک کی جیل میں اس کی موت سے متعلق معلومات شامل ہیں، جسے اب تک ایک معمہ قرار دیا جاتا ہے۔
ان دستاویزات میں بعض امریکی عہدیداروں پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، روس اور متحدہ عرب امارات کے نام شامل ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ممالک نے امریکی سیاسی اور مالی حلقوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت