پاکستان اور میانمار کے مابین سفارتی تعلقات کو نئی سمت دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج میانمار کے وزیر خارجہ ایچ ای تھان سوی کی وزارت خارجہ اسلام آباد آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس اعلیٰ سطحی مذاکرات میں دو طرفہ تجارت و معیشت، علاقائی سلامتی و استحکام اور تعلیمی تعلقات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تجارتی شعبے میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے نئے میکانزم متعارف کرانے پر غور کیا گیا، نیز تجارتی رکاوٹیں دور کرنے اور ترجیحی تجارتی معاہدے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔
دوطرفہ ملاقات میں انسانی وسائل کے تعاون کے حوالے سے میانمار کے شہریوں، خاص طور پر طبی پیشہ وران اور انجینئرز کے لیے پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، نیز پاکستانی افرادی قوت کے لیے میانمار میں مواقع کی تلاش پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ علاقائی سلامتی و استحکام کے ضمن میں خاص طور پر خطے میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔ ثقافتی و تعلیمی تعلقات کے فروغ کے لیے طلبہ اور اسکالرز کے تبادلے کے پروگراموں کو بحال کرنا اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے پلیٹ فارمز قائم کرنے پر اتفاق ہوا۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ملاقات میں پاکستان کے میانمار کے ساتھ مستحکم، دیرپا اور باہمی فائدے پر مبنی تعلقات” کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک جنوبی ایشیائی اور جنوب مشرقی ایشیائی خطوں کے درمیان “واحد قدرتی جغرافیائی پُل” کی حیثیت رکھتے ہیں، جسے استعمال کرتے ہوئے نہ صرف باہمی بلکہ علاقائی خوشحالی کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ وزیر خارجہ تھان سوی نے پاکستان کی خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا اور میانمار کے “اقتصادی اور تعمیری ترقی کے نئے دور” میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو اہم قرار دیا۔
دیکھیں: ٹرمپ مسٔلہ کشمیر کو بورڈ آف پیس میں شامل سکتے ہیں، بھارت میں خدشات