تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق بیان پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس پر مختلف مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ منگول حکمران چنگیز خان سے کیا اور طاقت و جارحیت سے متعلق گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بعض اوقات طاقت اور سختی میانہ روی پر غالب آ جاتی ہے، اس لیے اسرائیل کو خود کو مضبوط اور مسلح رکھنا ہوگا۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف مذہبی حلقوں میں تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس بیان پر تحفظات کا اظہار کیا اور اسے نامناسب قرار دیا۔ تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مزید وضاحت سامنے نہیں آئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور سفارتی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
دیکھئیے:پاکستان نے بھارت میں اسرائیلی سفیر کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا