"> نیا سال: تبدیلی، عزم اور امکانات کا سال - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

نیا سال: تبدیلی، عزم اور امکانات کا سال

نیا سال پاکستان کے لیے محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ خود احتسابی، نئے عزم اور بہتر مستقبل کا موقع ہے۔ 2025 کی پاک بھارت کشیدگی نے قوم کو متحد کیا اور واضح کیا کہ قومی سلامتی صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد سے وابستہ ہے
نیا سال پاکستان کے لیے محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ خود احتسابی، نئے عزم اور بہتر مستقبل کا موقع ہے۔ 2025 کی پاک بھارت کشیدگی نے قوم کو متحد کیا اور واضح کیا کہ قومی سلامتی صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد سے وابستہ ہے

اتحاد، جمہوری استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی کے ذریعے نیا سال واقعی تبدیلی، ترقی اور وقار کا سال ثابت ہو سکتا ہے

January 2, 2026

نیا سال محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ یہ قوموں کے لیے خود احتسابی، نئے عزم اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا موقع بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے نیا سال ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ گزشتہ برس 2025 میں خطے نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کو کھلی جنگ کی صورت میں دیکھا، جس نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ دوہزار پچس کی پاک بھارت جنگ محض سرحدی جھڑپ نہ تھی بلکہ یہ ایک بڑے جغرافیائی، سیاسی اور نظریاتی تصادم کی علامت تھی۔ بھارت کی جانب سے جارحانہ رویے اور خطے میں بالادستی کے خواب نے صورتحال کو جنگ کی طرف دھکیلا، تاہم پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہ صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا بلکہ دنیا کو واضح پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کیے بغیر۔ اس جنگ نے پاکستانی قوم کو ایک بار پھر متحد کر دیا۔ سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات اور سماجی تحدیات کے باوجود پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئی۔ یہ یکجہتی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل وقت میں پاکستانی قوم اپنی بقا، عزت اور آزادی کے لیے ایک صف میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ 2025 کے تجربے نے یہ سبق دیا کہ قومی سلامتی محض عسکری طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد سے جڑی ہوتی ہے۔
نئے سال کا آغاز پاکستان کے لیے تبدیلی کے عزم کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگیں وقتی فتح تو ہمکنار تو سکتی ہیں مگر مستقل و پائیدار ترقی کا راستہ امن، سفارت کاری اور داخلی مضبوطی سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستان کو عالمی برادری میں ایک ذمہ دار، پرامن اور خوددار ریاست کے طور پر اپنی سفارتی پوزیشن مزید مستحکم کرنا ہوگی، جبکہ بھارت کے ساتھ تمام تنازعات خصوصاً مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دینا ہوگا۔ ساتھ ہی، نیا سال امکانات کا سال بھی ہو سکتا ہے اگر ہم معاشی اصلاحات، تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں۔ 2025 کی جنگ نے دفاعی صلاحیت کی اہمیت اجاگر کی، مگر اب وقت ہے کہ ہم معاشی خود انحصاری کو بھی قومی سلامتی کا لازمی جزو بنائیں۔ ایک مضبوط معیشت ہی پاکستان کو عالمی دباؤ سے پاک اور آزادانہ فیصلے کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔

نیا سال پاکستان کے لیے داخلی استحکام اور معاشی خودکفالت کا وقت بھی ہے۔ جنگی صورت حال نے معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو واضح کیا ہے، جس کے پیش نظر اب ہنگامی بنیادوں پر معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ٹیکس نظام کی اصلاح، برآمدات میں اضافہ، زرعی و صنعتی شعبوں کی جدید کاری اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے نہ صرف معیشت مستحکم ہوگی بلکہ دفاعی خود انحصاری بھی ممکن ہو سکے گی۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جو کسی بھی بحران میں قوم کو مضبوطی سے کھڑا رکھ سکتی ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو بااختیار بنانا بھی نئے سال کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔ تعلیم، ہنر مندی کی تربیت، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ملکی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ یہ نوجوان ہی قوم کا مستقبل ہیں، اور ان کی صحیح رہنمائی اور مواقع کی فراہمی ہی پاکستان کو حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنا سکتی ہے۔

آخر میں، نیا سال پاکستان کے لیے ایک نیا موقع ہے کہ وہ ماضی کے زخموں سے سیکھتے ہوئے مستقبل کی سمت درست کرے۔ اگر ہم باہمی اتحاد، جمہوری استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی کو اپنا شعار بنا لیں تو کوئی قوت اس لائق نہیں ہے کہ وہ پاکستان کو امن، ترقی اور وقار کی راہ سے ہٹا سکے۔ نیا سال واقعی تبدیلی، عزم اور امکانات کا سال ثابت ہو سکتا ہے ،بشرطیکہ ہم اس موقع کو پہچانتے ہوئے قدر دانی کریں۔

دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *