صدر آصف زرداری نے دورہ چین کے دوران صوبہ حنان کی قیادت سے ملاقات میں زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون پر زور دیا اور چینی حکام کو سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر دورہ پاکستان کی دعوت دی۔
چمن اور سپین بولدک کے مقامات پر پاک افغان فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں میں 4 پاکستانی اہلکار شہید جبکہ 6 افغان اہلکار ہلاک ہو گئے؛ رات بھر جاری رہنے والی فائرنگ کے بعد سرحد پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔
نیشنل پریس کلب کے اراکین نے صدر اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ان کی کلب کی رکنیت فی الفور منسوخ کی جائے اور انہیں پریس کلب سے بے دخل کیا جائے۔
اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے مختلف مکاتبِ فکر اور اتحاد المدارس العربیہ پاکستان نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہے، لیکن کسی کی عزت، خاندان اور سلامتی پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
پی ایس ایل 11 کا آغاز مارچ میں علاقائی کشیدگی اور ایندھن کے بحران کے باعث حکومتی “کفایت شعاری پالیسی” کے تحت ہوا تھا، جس کی وجہ سے تمام میچز کراچی اور لاہور کے خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے گئے۔
عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔
اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔