قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔