دو روز قبل جاری ہونے والے اس حکم کے مطابق شہریوں اور میڈیا اداروں کی جانب سے طالبان اہلکاروں اور حکومتی ذمہ داران پر تنقید کرنا ممنوع ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں دی جائیں گی۔
ملاقات میں جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیشی وفد نے پاک فضائیہ کی اہم تنصیبات کا دورہ کیا، جن میں نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر، پاک فضائیہ سائبر کمانڈ اور نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک شامل ہیں، جہاں انہیں آئی ایس آر، سائبر، خلائی، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ نظاموں کی صلاحیتوں سے آگاہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی وفد پوری تیاری اور منصوبہ بندی کے تحت وہاں آیا تھا۔ جیسے ہی بس جنازہ گاہ پہنچی، تو بھارتی ہائی کمشنر بس کے دروازے پر کھڑے ہو گئے، اور جب میں نیچے اترنے لگا تو بولے کہ آپ مت جائیں نیچے رش ہے اور آپ کو خطرہ ہے۔
دیگر صوبوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ سے بھی غیر قانونی غیر ملکیوں کو خیبرپختونخوا کے ذریعے ڈی پورٹ کیا گیا۔ مجموعی طور پر دیگر صوبوں سے 38,974 افراد کو رپورٹ کیا گیا، جن میں بڑی تعداد غیر قانونی مقیم افراد کی ہے۔
ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) کے مطابق جاری مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں اب تک کم از کم 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک ہفتے سے زائد عرصے میں 1200 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ایچ آر اے این اے کا کہنا ہے کہ ان احتجاجی سرگرمیوں میں جامعات کے طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہیں اور مختلف شہروں میں طلبہ کی جانب سے الگ الگ مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
اقرار الحسن نے بھی اسی موقع پر اپنی پہلی اہلیہ قرۃ العین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خاندان میں اتحاد اور خوشحالی برقرار رکھنے میں ان کا کردار بے مثال ہے۔
وزیراعظم نے قابل عمل و موثر پلان تشکیل دینے پر معاون خصوصی ہارون اختر اور سمیڈا کے نو منتخب بورڈ آف ڈائریکٹرز کو سراہتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی سے ملکی برآمدات میں اضافے کی بھرپور استعداد موجود ہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں قدرتی وسائل کی لوٹ مار کے خلاف عوامی بیداری اور مزاحمت میں تیزی آ رہی ہے، جس سے طالبان کی نام نہاد امارت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مظاہرین پر تشدد اور شہداء کی بے حرمتی اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان اپنی بڑھتی ہوئی عوامی مخالفت، بے چینی اور غصے کے سامنے بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران سہیل امیری نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اکتوبر 2023 میں غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوا تھا۔ برطانوی حکام کے مطابق ملزم اس وقت حراست میں ہے اور اس کی سزا کا اعلان 6 فروری کو متوقع ہے۔
گرفتار شخص نے اعتراف کیا کہ وقت کے ساتھ اس کی ذمہ داریاں تبدیل ہوتی رہیں اور تمام مشن مالی ادائیگیوں سے مشروط تھے۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تمام تر ہدایات، تربیت اور رابطہ ایک ہی موبائل فون کے ذریعے کیا جاتا رہا۔