"> طالبان اہلکاروں پر تنقید جرم قرار، سزائیں مقرر کر دی گئیں؛ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے حکم جاری کر دیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان اہلکاروں پر تنقید جرم قرار، سزائیں مقرر کر دی گئیں؛ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے حکم جاری کر دیا

دو روز قبل جاری ہونے والے اس حکم کے مطابق شہریوں اور میڈیا اداروں کی جانب سے طالبان اہلکاروں اور حکومتی ذمہ داران پر تنقید کرنا ممنوع ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں دی جائیں گی۔
طالبان اہلکاروں پر تنقید جرم قرار، سزائیں مقرر کر دی گئیں؛ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے حکم جاری کر دیا

طالبان سربراہ کے مطابق یہ حکم فوری طور پر تمام افغان شہریوں، طالبان ارکان اور میڈیا اداروں پر نافذ ہو چکا ہے۔

January 6, 2026

افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے طالبان حکام پر کسی بھی قسم کی تنقید کو باقاعدہ جرم قرار دے دیا ہے۔ دو روز قبل جاری ہونے والے اس حکم کے مطابق شہریوں اور میڈیا اداروں کی جانب سے طالبان اہلکاروں اور حکومتی ذمہ داران پر تنقید کرنا ممنوع ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں دی جائیں گی۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’بے بنیاد‘‘ یا ’’خلافِ حقیقت‘‘ تنقید کو جرم تصور کیا جائے گا، جس پر قید، جرمانے اور دیگر سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ طالبان اہلکاروں کی توہین، حتیٰ کہ ان کے لباس کو نقصان پہنچانا بھی قابلِ سزا جرم ہوگا۔ عدالتی کارروائی کے دوران عدالت کی توہین یا عمل میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے جائیں گے، تاہم عدالت کو معافی دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔

طالبان سربراہ کے مطابق یہ حکم فوری طور پر تمام افغان شہریوں، طالبان ارکان اور میڈیا اداروں پر نافذ ہو چکا ہے۔ تاہم حکم نامے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تنقید یا اعتراض کو ’’بے بنیاد‘‘ یا ’’خلافِ حقیقت‘‘ قرار دینے کا معیار کیا ہوگا۔ اس حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار بھی خود طالبان کو دیا گیا ہے کہ کون سا بیان حقیقت کے منافی ہے اور کون سا محض الزام کے زمرے میں آتا ہے۔ اس اقدام کو اظہارِ رائے کی آزادی پر مزید قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *