"> خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں سمیت غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے گئے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں سمیت غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے گئے

دیگر صوبوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ سے بھی غیر قانونی غیر ملکیوں کو خیبرپختونخوا کے ذریعے ڈی پورٹ کیا گیا۔ مجموعی طور پر دیگر صوبوں سے 38,974 افراد کو رپورٹ کیا گیا، جن میں بڑی تعداد غیر قانونی مقیم افراد کی ہے۔
خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں سمیت غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے گئے

محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کے مطابق یہ عمل وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت جاری ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو رپورٹ وزارتِ داخلہ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دفتر کو ارسال کر دی گئی ہے۔

January 6, 2026

حکومتِ خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے تحت قائم صوبائی فارن سیکیورٹی سیل نے 5 جنوری 2026 تک غیر قانونی غیر ملکیوں، بالخصوص افغان باشندوں کی واپسی سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق 5 جنوری کی شام 8:30 بجے تک صرف خیبرپختونخوا کے بارڈر پوائنٹس کے ذریعے 1,742 افراد پی او آر، 376 اے سی سی جبکہ 562 غیر قانونی غیر ملکیوں کو وطن واپس بھیجا گیا۔ مجموعی طور پر اب تک خیبرپختونخوا کے راستے 219,248 پی او آر، 69,912 اے سی سی اور 682,978 غیر قانونی افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

بارڈر پوائنٹس کی تفصیل کے مطابق سب سے زیادہ واپسی طورخم بارڈر کے ذریعے ہوئی، جہاں اب تک 673,832 غیر قانونی افراد واپس جا چکے ہیں، جبکہ انگور اڈہ، خرلاچی اور سست بارڈر (چین) سے بھی محدود تعداد میں آمدورفت ریکارڈ کی گئی ہے۔

دیگر صوبوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ سے بھی غیر قانونی غیر ملکیوں کو خیبرپختونخوا کے ذریعے ڈی پورٹ کیا گیا۔ مجموعی طور پر دیگر صوبوں سے 38,974 افراد کو رپورٹ کیا گیا، جن میں بڑی تعداد غیر قانونی مقیم افراد کی ہے۔

ٹرانزٹ پوائنٹس اور حراستی مراکز کے اعداد و شمار کے مطابق پشاور، لنڈی کوتل اور کوہاٹ جیل کے ذریعے بھی ڈی پورٹیشن کا عمل جاری ہے۔ 5 اپریل 2025 سے اب تک ان مراکز سے 7,977 افراد کو ٹرانزٹ کیا گیا جبکہ 2,241 افراد نے رات قیام کیا۔

خلاصہ رپورٹ کے مطابق آج کے دن رضاکارانہ واپسی کرنے والوں میں 1,741 پی او آر، 375 اے سی سی اور 415 غیر قانونی افراد شامل تھے، جبکہ جبری ڈی پورٹیشن کے ذریعے بھی ہزاروں افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔

محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کے مطابق یہ عمل وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت جاری ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو رپورٹ وزارتِ داخلہ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دفتر کو ارسال کر دی گئی ہے۔

دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *