دوحہ نے مختلف مسلح اسلام پسند تنظیموں کو پناہ، سیاسی پلیٹ فارم، بین الاقوامی رسائی اور سفارتی حیثیت فراہم کی، مگر اس کے بدلے ان سے مؤثر حکمرانی، انسانی حقوق یا تشدد ترک کرنے جیسے تقاضے وابستہ نہیں کیے گئے۔ اس طرزِ عمل کا طویل المدتی نتیجہ یہ نکلا کہ مسلح گروہوں کو خود مختار عملی گنجائش ملی، جبکہ عام شہری بدستور عدم تحفظ اور علاقائی عدم استحکام کا شکار رہے۔