افغانستان میں طالبان کی ‘امارات’ شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے ‘غاصبانہ قبضہ’ قرار دے دیا۔

April 18, 2026

امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔

April 18, 2026

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، ترکیہ اور قطر کی قیادت کے درمیان اہم سہ فریقی ملاقات؛ علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں اور مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور۔

April 18, 2026

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم مشاورتی اجلاس؛ علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارت کاری کو ناگزیر قرار دے دیا۔

April 18, 2026

قوموں کی زندگی میں دھوپ چھاؤں آتی ہے ، ہم جیسوں کوبھی یقین تھا ، چھاؤں آئے گی۔ ہم نہیں دیکھیں گے تو ہماری آئندہ نسل دیکھے گی۔ مگر ہم نے کب یہ سوچا تھا کہ وقت کا موسم یوں بدل جائے گا۔ اچانک ہی، دیکھتے ہی دیکھتے، جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔

April 18, 2026

لاہور کی جانب سے حسیب اللہ 33 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ اسامہ میر نے 22، فخر زمان نے 20، عبداللہ شفیق نے 17 اور سکندر رضا نے 15 رنز اسکور کیے۔

April 17, 2026

کابل میں افغان طالبان کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار مولوی نعمان غزنوی پراسرار طور پر ہلاک

ذرائع کے مطابق مولوی نعمان غزنوی کابل کے مشرقی علاقے بٹخاک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہلاک ہوئے۔ وہ طالبان انٹیلی جنس کے سربراہ عبد الحق واثق کے نہایت قریبی ساتھی اور سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔ واقعے کی نوعیت اور اسباب تاحال واضح نہیں ہو سکے۔
کابل میں افغان طالبان کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار مولوی نعمان غزنوی پراسرار طور پر ہلاک

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ مولوی نعمان کو طالبان انٹیلی جنس کے اندرونی تنازع کے دوران تاج میر جواد کے احکامات پر قتل کیا گیا۔

December 28, 2025

افغان طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کے ایک سینئر اہلکار اور ادارے کے سربراہ عبد الحق واثق کے قریبی معاون مولوی نعمان غزنوی کابل میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ طالبان سے وابستہ متعدد ذرائع اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، تاہم تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مولوی نعمان غزنوی کابل کے مشرقی علاقے بٹخاک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہلاک ہوئے۔ وہ طالبان انٹیلی جنس کے سربراہ عبد الحق واثق کے نہایت قریبی ساتھی اور سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔ واقعے کی نوعیت اور اسباب تاحال واضح نہیں ہو سکے۔

طالبان سے منسلک بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ گیس دھماکے کے نتیجے میں پیش آیا، تاہم دیگر ذرائع اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہلاکت طالبان کے اندرونی اختلافات اور ادارے کے اندر جاری اقتدار کی کشمکش سے جڑی ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ مولوی نعمان کو طالبان انٹیلی جنس کے اندرونی تنازع کے دوران تاج میر جواد کے احکامات پر قتل کیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی طالبان حکام نے ان الزامات پر کوئی ردعمل دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں مولوی نعمان کے علاوہ دو دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان کی شناخت اور واقعے سے تعلق کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

طالبان حکام کی خاموشی کے باعث واقعے کے پس منظر اور محرکات کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں، جبکہ اب تک کسی بھی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دیکھیں: افغانستان سے لیبیا تک: پاکستان کی علاقائی حکمتِ عملی

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان کی ‘امارات’ شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے ‘غاصبانہ قبضہ’ قرار دے دیا۔

April 18, 2026

امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔

April 18, 2026

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، ترکیہ اور قطر کی قیادت کے درمیان اہم سہ فریقی ملاقات؛ علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں اور مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور۔

April 18, 2026

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم مشاورتی اجلاس؛ علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارت کاری کو ناگزیر قرار دے دیا۔

April 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *