استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج سے شروع ہو رہا ہے۔ مذاکرات میں سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے، دہشت گروہ، جنگ بندی اور دوطرفہ تعلقات پر غور کیا جائے گا
جوں جوں علاقائی سفارتی شطرنج کی بساط بدل رہی ہے، اسلام آباد اپنی عسکری اور اخلاقی طاقت کے ساتھ اس ابھرتی ہوئی دشمنی کا سامنا کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔
اگر دنیا نے آج افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں روکنے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو کل دہشت گردی پاکستان کے بعد کی یہ آگ انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔
ذرائع کے مطابق استنبول میں ہونے والے یہ مذاکرات ترک خفیہ ادارے “ایم آئی ٹی” کے سربراہ ابراہیم قالن کی میزبانی میں ہوں گے، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔