سینٹر مشتاق احمد نے جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے ایسے حالات بن گئے تھے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ چلنا مشکل ہوگیا تھا
انہوں نے مزید کہا کہ ’’امریکی قبضے کے دوران اتار چڑھاؤ کے باوجود طالبان نے کبھی بھارت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا اور ہمیشہ بہتر تعلقات کے خواہاں رہے۔‘‘
یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال مئی میں طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کیا تھا، جس کے بعد بھارت کا یہ اقدام جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔
پڑوسی مُلک سے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں کی جارہی ہیں جنہیں روکنے کے لیے ریاستِ پاکستان نے بارہا مرتبہ کوششیں کیں لیکن طالبان حکومت کی جانب سے سنجیدگی نظر نہ آئی