ذرائع کے مطابق پاکستان نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے کابل حکومت کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ سکیں۔
قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹک ٹاک کا لائیو چیٹ فیچر فحاشی اور بے راہ روی کو فروغ دے رہا ہے اور نوجوان نسل، خصوصاً بچوں کو غیر اخلاقی سرگرمیوں کی طرف مائل کر رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز ملک میں امن اور سلامتی کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں اور ایسے بزدلانہ حملے فوج کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
یہ کتاب انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اسٹڈیز اور یونیورسٹی آف لاہور کا مشترکہ تحقیقی منصوبہ ہے جس میں 19 محققین نے حصہ لیا۔ کتاب کی ادارت معروف اسکالر ڈاکٹر رابعہ اختر نے کی ہے
یاد ہے کہ پاکستان 57 اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی قوت سے اور کئی جنگوں کا تجربہ بھی رکھتا ہے۔ اس تناظر میں حالیہ صورتحال کے دوران پاکستان کا کردار مزید اہمیت کا حامل ہے
ٹی ٹی پی کے اس بیان میں وزیراعظم کے اس موقف کو بھی چیلنج کیا گیا جس میں افغان سرزمین کو “ٹی ٹی پی یا پاکستان” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا کہا گیا تھا۔