سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل دھماکے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی اور پاکستان میں داعش خراسان کا آپریشنل سینٹر موجود ہے، جسے پاکستانی اداروں کی حمایت حاصل ہے

January 20, 2026

امریکہ کے بعد یورپی ملک پولینڈ نے بھی بھارت۔ روس کے دفاعی تعلقات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سِکورسکی نے نئی دہلی میں کہا کہ انہیں بھی بھارت کی روس کے ساتھ فوجی مشقوں پر تحفظات ہیں

January 20, 2026

رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے غزہ سے ایران تک بحرانوں میں ثالثی، جنگ بندی اور خطے میں سیاسی توازن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا

January 20, 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی صنعت میں اشتراک اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔

January 20, 2026

چمن کے قریب افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافہ، پاک فوج نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا

January 20, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو ملکی سلامتی کے لیے ’فاش غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہی فیصلہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی بنیادی وجہ بنا۔ انہوں نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی پر افغان حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا

January 20, 2026

پاکستان نے افغان سفیر کو طلب کرلیا، ٹی ٹی پی سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

ذرائع کے مطابق پاکستان نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے کابل حکومت کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ سکیں۔
پاکستان نے افغان سفیر کو طلب کرلیا، ٹی ٹی پی سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

دفتر خارجہ نے افغان سفیر پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی معاونت اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

September 17, 2025

دفترِ خارجہ نے افغانستان کے سفیر کو طلب کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ کابل کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلقات ختم کرنا ہوں گے اور اس حوالے سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا ہوگا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان سفیر کو ملاقات کے دوران کہا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان نے زور دیا کہ کابل اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی قسم کی پناہ یا سہولت فراہم نہ کرے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر پاکستانی دہشت گرد گروہ افغانستان میں موجود ہیں اور انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی ایجنسی ان گروہوں کو مالی، عسکری اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔

دفتر خارجہ نے افغان سفیر پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی معاونت اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی بیرونی مداخلت اور دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے کابل حکومت کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ سکیں۔

دیکھیں: امن یا فریب؟ ٹی ٹی پی مذاکرات کی تاریخ اور حالیہ مطالبات

متعلقہ مضامین

سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل دھماکے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی اور پاکستان میں داعش خراسان کا آپریشنل سینٹر موجود ہے، جسے پاکستانی اداروں کی حمایت حاصل ہے

January 20, 2026

امریکہ کے بعد یورپی ملک پولینڈ نے بھی بھارت۔ روس کے دفاعی تعلقات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سِکورسکی نے نئی دہلی میں کہا کہ انہیں بھی بھارت کی روس کے ساتھ فوجی مشقوں پر تحفظات ہیں

January 20, 2026

رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے غزہ سے ایران تک بحرانوں میں ثالثی، جنگ بندی اور خطے میں سیاسی توازن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا

January 20, 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی صنعت میں اشتراک اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔

January 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *