کابل: افغانستان کے تین مختلف صوبوں خوست، کندوز اور بدخشاں میں ہونے والے حملوں میں طالبان اور ان کے اتحادی گروپوں کے 20 افراد ہلاک و زخمی ہو گئے، جبکہ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ حملے 5 اور 6 مارچ کے دوران 24 گھنٹوں میں کیے گئے، جن میں مختلف چیک پوسٹوں اور مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
پہلا حملہ صوبہ خوست کے ضلع تنئی میں ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر کیا گیا، جس میں ایک افغان طالبان اور ایک تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا رکن ہلاک جبکہ ایک طالبان اہلکار زخمی ہوا۔ حملہ آور اس موقع پر اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
دوسری کارروائی صوبہ کندوز کے ضلع دشتِ آرچی کے گاؤں قندہاریہا میں کی گئی، جہاں القاعدہ اور ترکستان اسلامک پارٹی (ٹی آئی پی) کے مشترکہ مرکز کو راکٹ حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک اویغور جنگجو اور القاعدہ کے دو ارکان ہلاک جبکہ چار طالبان اہلکار زخمی ہوئے۔
تیسرا حملہ صوبہ بدخشاں میں کیا گیا جہاں غیر ملکی جنگجوؤں کے ایک مرکز پر گوریلا کارروائی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں مرکز کا ایک حصہ مکمل تباہ ہو گیا جبکہ تقریباً دس طالبان اور انصار اللہ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہلاک ہوئے، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تفصیلات جاری کی ہیں، تاہم افغان حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دیکھئیے:آپریشن “غضب للحق” کی تازہ ترین صورتحال: 796 دہشتگرد ہلاک، 1043 سے زائد زخمی؛ عطا اللہ تارڑ