خیبر پختونخوا کے ضلع اپر اورکزئی سے ایک دلچسپ اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے: کالعدم تحریک طالبان پاکستان، کالعدم جماعت الاحرار اور کالعدم داعش، جو بظاہر ایک ہی طرح کے شدت پسندانہ عزائم رکھتی ہیں، اب آپس میں ہی برسرِپیکار ہو گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں کے کارندے علاقے کے مختلف حصوں میں ایک دوسرے کے خلاف خونریز جھڑپوں میں مصروف رہے۔
ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار
رپورٹ کے مطابق مامو چنہ، کوہِ کالا گاؤں اور یک کنڈو پہاڑی سلسلے کے علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم جماعت الاحرار کے کارندے آپس میں ہی گتھم گتھا ہو گئے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس باہمی تصادم میں جماعت الاحرار نے ٹی ٹی پی کے کاظم گروپ سے تعلق رکھنے والے تین ارکان کو ذبح جبکہ دو دیگر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق گروپ کمانڈر کاظم اپنے زخمی ساتھیوں سمیت میدان چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
اپراورکزئی میں کالعدم ٹی ٹی پی، کالعدم جماعت الاحراراور کالعدم دولت اسلامیہ ( داعش ) کے مابین خونریز تصادم
— Irfan Khan (@irfijournalist) July 28, 2026
خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی اپر سے یہ خبر سامنے آرہی ہے کہ گزشتہ شام کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے مابین شدید جھڑپ ہوئی
اپراورکزئی کے علاقے ممو… pic.twitter.com/PpdBKn9lGu
ٹی ٹی پی اور داعش
دوسری جانب اسی ضلع کے کوہی کالا ترکندارہ، قوم اخیل کے علاقے میں کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش کے درمیان بھی ایک اور محاذ کھل گیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس آپسی لڑائی میں ٹی ٹی پی کمانڈر ساجد عرف منصور اور گروپ کے تین سے چار دیگر ارکان، جن میں کمانڈر اعجاز وزیر بھی شامل ہیں، زخمی ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق اس جھڑپ میں ایک کمانڈر ذوالقرنین عرف ایوبی قوم افغان بھی مارا گیا، جس کی لاش عبدالقیوم زرگر مسجد میں موجود بتائی گئی ہے۔
اورکزئی میں کالعدم تنظیموں کی آپسی خانہ جنگی اس بات کا مظہر ہے کہ دہشتگرد گروہ اپنے ہی صفوں میں تقسیم اور رقابت کا شکار ہیں۔ ہلاکتوں کی درست تعداد آزادانہ تصدیق کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔
دیکھیے: فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا کوئٹہ میں بزدلانہ حملہ، ایک شہری شہید