اسلام آباد: چین کی ثالثی میں ارومچی میں جاری پاک۔افغان مذاکرات میں پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کا خاتمہ صرف بامعنی پیشرفت کی بنیاد پر ہوگا، جبکہ حقیقی پیشرفت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔
دفتر خارجہ کی بریفنگ کے مطابق پاکستان نے سہ فریقی انسداد دہشتگردی تعاون کے تحت اپنا وفد ارومچی بھجوایا ہے، جو سینئر حکام پر مشتمل ہے۔ یہ مذاکرات ورکنگ لیول پر ہو رہے ہیں اور ابھی جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور چین کے ساتھ اس عمل میں مسلسل شریک ہے، تاہم دیرپا حل کیلئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی بنیادی تشویش دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، اور اس حوالے سے افغانستان کو قابلِ تصدیق اور واضح اقدامات کرنا ہوں گے۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ جاری آپریشن “غضب للحق” میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور سکیورٹی فورسز حالیہ دنوں میں بھی انسداد دہشتگردی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان کا ایک درمیانی سطح کا وفد چین پہنچ چکا ہے، جو پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے۔
افغان مؤقف کے مطابق یہ بات چیت باہمی احترام، عدم مداخلت اور تعمیری روابط کی بنیاد پر ہو رہی ہے، جس کا مقصد اچھے ہمسائیگی تعلقات، تجارت کے فروغ اور سکیورٹی امور پر پیشرفت ہے۔
افغان ترجمان کا کہنا ہے کہ سفارتی تعامل کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے، جو خطے کے استحکام کیلئے اہم ہوگا۔
واضح رہے کہ ارومچی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایسے وقت جاری ہیں جب پاک۔افغان تعلقات سکیورٹی اور سرحدی مسائل کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔:
دیکھئیے: