پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کے مابین ہونے والی حالیہ شدید جھڑپوں اور فضائی کاروائیوں کے نتیجے میں افغان اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تصاویر تو منظرِ عام پر آگئی ہیں، تاہم جانی نقصان کی مکمل اور باضابطہ تفصیلات تاحال مخفی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح مقابلے میں بڑی تعداد میں افغان اہلکار مارے گئے ہیں، لیکن ان کی شناخت اور حتمی تعداد کے حوالے سے کوئی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔
ہلاکتوں پر خاموشی
سرحدی علاقوں میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں کے حوالے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ اگرچہ ان حملوں میں نشانہ بننے والے افغان اہلکاروں کی لاشوں کی تصاویر سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر گردش کر رہی ہیں، لیکن ان کے درست اعداد و شمار تاحال منظرِ عام پر نہیں لائے گئے۔ بعض ذرائع ان تصاویر کے ذریعے ہلاکتوں کی تصدیق تو کر رہے ہیں، مگر جانی و مالی نقصان کی درست تفصیلات جاری نہ ہونے سے سرحدی صورتحال پر ابہام برقرار ہے۔
https://x.com/MahazOfficial1/status/2027192474595459300?s=20
تفصیلات کی فراہمی
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ تصاویر سامنے آنے کے باوجود افغان اہلکاروں کی ہلاکتوں اور فضائی کارروائیوں کے اثرات سے متعلق باضابطہ تفصیلات کا نہ آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ تاحال مرتب کیا جا رہا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کسی بھی باضابطہ بیان یا جامع رپورٹ کے سامنے نہ آنے تک ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔