پاکستان اور افغان طالبان کے اعلیٰ سطح کے وفود چین میں ہونے والے اہم مذاکرات کے لیے اسلام آباد اور کابل سے بیجنگ روانہ ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی، ممکنہ فائربندی اور سرحدی سلامتی سے متعلقہ امور بتائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کی قیادت وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کر رہے ہیں، جبکہ ان میں وزارتِ دفاع اور دیگر حساس سکیورٹی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ چین کی میزبانی میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور سرحدی انتظام کے حوالے سے ایک پائیدار فریم ورک تیار کرنا ہے۔
Alert: Pakistani and Afghan Taliban delegations have departed from Islamabad and Kabul for China to hold talks on a ceasefire, border related affairs and security issues.
— Mahaz (@MahazOfficial1) April 1, 2026
The delegations are being led by officials from their respective Ministries of Foreign Affairs, with…
ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق افغان وفد کی جانب سے اس اہم ملاقات میں امارتِ اسلامیہ کی نمائندگی وزارتِ خارجہ سے محمد وسیق اور عبدالحئی قانع کر رہے ہیں۔ وفد میں وزارتِ داخلہ سے عارف اللہ، وزارتِ دفاع سے روح اللہ عمر اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس سے یحییٰ تکل بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی وفد میں بھی وزارتِ خارجہ، دفاع اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام شامل ہیں جو سرحدی امور اور حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری دیکھی گئی ہے۔ سفارتی مبصرین ان مذاکرات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ بیجنگ کا سہ فریقی میکانزم دونوں فریقین کو سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے ایک معتبر پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات اور سرحدی آمد و رفت کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔