:وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے لوک ورثہ میں منعقدہ تاجکستان پاکستان ثقافتی میلے میں شرکت کے دوران وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے باہمی افہام و تفہیم کے فروغ اور علاقائی تعاون میں وسعت کے لیے ثقافتی روابط کو ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔وفاقی وزیر کا لوک ورثہ پہنچنے پر پاکستان میں تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف نے استقبال کیا۔ اس موقع پر سفارت کاروں کے علاوہ سینئر حکام اور ثقافتی نمائندے بھی موجود تھے جو دوطرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی گرمجوشی کی عکاسی کرتا ہے۔میلے میں پاکستان اور تاجکستان کے مشترکہ ورثے اور فنکارانہ روایات کو اجاگر کیا گیاجسے شرکاء اور حاضرین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے تاجکستان سے آئے 75 رکنی ثقافتی دستے کی شاندار اور دلکش پرفارمنس کی تعریف کی۔ انہوں نے فنکاروں کو تاجکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کی خوبصورت عکاسی پر خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تاجک فنکاروں کو خوش آمدید کہتا ہے اور ثقافتی تبادلوں کو اقوام کے درمیان دوستی اور اعتماد مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان گہرے ثقافتی اور تہذیبی رشتے مختلف شعبوں میں وسیع تر علاقائی تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
تاجکستان کی حکومت کی جانب سے ثقافتی وفد بھیجنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی روابط کی پالیسی کے تحت تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔میلے کے موقع پر تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف نے وفاقی وزیر سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ سفیر نے بتایا کہ تاجک ثقافتی دستہ اپنے دورے کے دوران لاہور میں بھی پرفارم کرے گا جس سے ثقافتی تبادلے کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
تاجکستان کے وزیر ثقافت مطلب خن ستوریون نے بھی عبدالعلیم خان سے ملاقات کی اور پاکستان کی جانب سے پرتپاک مہمان نوازی اور خوشگوار استقبال پر تاجک عوام کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی، سینئر سرکاری افسران،سفارتی برادری کے ارکان اور ثقافتی شخصیات نے بھی شرکت کی۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس نوعیت کی ثقافتی سرگرمیاں عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بناتی ہیں اور ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے علاقائی ہم آہنگی اور تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو تقویت دیتی ہیں۔